عشرہ مبشرہ(3) ۔۔حضرت ابوبکر ؓ صدیق کا ایمان لانا

الحمد اللہ ہماری سیرت پر گیارہ کتا بیں بشمول حقوق العباد اور اسلام ً ، سیرت ِ مبارکہ حضور ﷺ (روشنی حرا سے) کتابی شکل میں آپ کے ہاتھوں میں پہونچ گئیں۔ قصے مخلصین کے ً کا پہلا حصہ اخباری قسطوں میں پیش کرکے ختم کر لیا جو انبیا کرام ؑ کی حیات مبارکہ کے بارے میں تھا اور آپ لو گو ں نے جس دلچسپی سے ان سب کو پڑھا اور سرا ہا اس کے لیئے میں شکر گزار ہو ں۔ اب ہم جس دور میں دا خل ہو رہے ہیں وہ ہے صحابہ کرام ؓکی سوا نح حیات۔
یہ ا س سے بھی مشکل کام ہے کیو نکہ اس پر سب سے کم تو جہ دی گئی جو بہت ہی اہم تھیں امت کے لیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی وجہ سے فر قہ بندی نے جنم لیااور با تیں کچھ کی کچھ ہو گئیں اور حامیوں اور مخالفین کے ایسے گروہ بن گئے کہ حق کو نا حق، اور نا حق کو حق کہنے لگے۔اب اس پر لکھنا مجھ جیسے۔اتحاد بین المسلمین کے حامی کے لیئے بڑا مشکل کام ہی نہیں بلکہ کا نٹوں کی سیج ہے اس لئے اس کا حصہہ دوئم توقسطوار اخباروں میں شائع ہوچکا مگر پہلا حصہ جو میں اب پہلے پیش کرنے جا رہاہوں وہ التوا میں رہا اس لیئے کہ میں ان چاروں حضرات کی سیرت لکھ چکا تھا میں نے سوچا کہ میں بعد میں پہلا حصہ تحریر کرکے مکمل کردونگا۔ اس لئے یہ معاملہ التوا میں پڑا رہا اور کتاب نا ممکل رہی۔ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت اور آپ لو گو ں کی ہمت افزا ئی کی بنا پر میں اس کو مکمل کرنے کی شش کرر ہا ہو ں اور انشا اللہ ہمیشہ کی طر ح اپنی غیر جا نبداری بر قرار رکھو ں گا۔
اگر آپ کو کو ئی خامی نظر آئے تو مجھ سے پو چھ ضرور لیجئے گا، اپنے ذہن میں بد گما نی پیدا کر نے سے پہلے۔کیونکہ اللہ سبحانہ تعا لیٰ فر ما تے ہیں کہ بعض گمان کفر تک لے جا تے ہیں۔اب یہاں پھر سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ شروع کس سے کیا جا ئے جو کہ مجھے پہلے در پیش تھا میں نے سو چا کے پہلے حروف تہجی کے اعتبار سے شروع کر یں۔ لیکن یہ عجیب اتفا ق ہے کہ اس وقت جس زاویہ سے بھی میں دیکھا حضرت ابو بکرؓکا نام ہی پہلے آتا ہے۔ اگر ہم ان کے اصل نام کو لیں تو بھی وہ پہلے ہی آتا جو کہ با اختلاف مورخین عتیقؓ یاعبد اللہؓ ہے۔جبکہ با قی تین جلیل القدر صحابہؓ بھی ًع ً سے ہی شرع ہو تے ہیں یعنی عمر ؓ، عثمان اور علی ؓ اور کنیت اور مشہور نام سے لیں، تو معاملہ با لکل صاف ہو جاتا ہے کہ ابو بکرؓ الف سے شروع ہو تا ہے۔اب رہی مراتب کی بات تو بھی چا روں کے حق میں احادیث مو جو د ہیں اور ہم اس بنا پر کسی کو تر جیح دینے والے کون؟ انتہا ئی معمولی امتی جس طر ح سد رۃ المنتہیٰ سے آگے حضرت جبر ئیل ؑکو پر جلنے کا خدشہ تھا اسی طر ح اس بارے میں سو چنا بھی ہما رے لیئے اپنی عاقبت خراب کر نا ہے۔
اگر قربت کی بنا پر لیں تو ایک یا ر غار بچپن کے دوست اور سسر ہیں اور حضرت عمر ؓ سے بھی یہ ہی رشتہ ہے کہ اگر حضرت ابوبکر ؓ ام المو منین عا ئشہ ؓکے والِد محترم ہیں تو وہ ام المو نیں حضرت حفصہ کے والد ِ محترم ہیں۔ اس کے بعد حضرت ؑ عثمان ؓ ہیں جو ذوالنو رین ہیں کہ ان کے ساتھ حضورﷺ کی دو صا حبزادیوں کی شادی ہو ئی تھی۔ پھر حضرت علیؓ ہیں کہ جو داماد بھی چچا زاد بھی ہیں۔لہذا ہمیں یہ نام جس طر ح تا ریخ میں لکھے ہو ئے ملے اسی طر ح پیش کر دیئے تھے۔ لیکن ہمیں یہاں ایک آسانی یہ بھی حاصل ہے کہ عشرہ مبشرہ کی فہرست میں حضور علیہ السلام نے ان کا نام سر ِفہرست رکھا ہے اسی لیئے ہم پھر حضرت ابو بکر (رض) سے ہی شروع کر رہے ہیں۔
حضرت ابو بکر ؓ کا ایمان لانا۔حضرت ابو بکر ؓ شروع ہی سے ہی انتہا ئی پا کبا ز تھے انہوں نے کبھی شراب کو منہ تک نہیں لگا یا اور نہ بتوں کو کبھی پو جا اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ کند ہم جنس با ہم جنس پر واز کبو تر با کبو تر با ز بہ بازکے مصداق انہوں نے دو ست بھی اپنے جیسو ں کو ہی نہیں،بلکہ کامل ترین انسانﷺ کو چنا یعنی حضو رﷺ کا نام ِ نامی ان کے احباب میں سر فہرست تھا جبکہ شر ف ہم عمری بھی حا صل تھا۔ تمام مو رخین اس با ت پر متفق ہیں کہ سب سے پہلے ایمان لا نے افراد اس طرح تھے۔ ام المو نیں حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ خواتین میں،اور ان کے ذریعہ سے ان کے غلام حضرت زیدؓ بن حارثہ اور بچوں میں علی ؓ۔ با قی دو کا ایمان لانے کاذکر ہم انشا اللہ ان کی سوا نح میں کر یں گے۔پہلے حضرت ابو بکر ؓکا ذکر اس لیئے کہ ہم وجہ تفصیلا ً اوپر بیا ن کر چکے ہیں۔
مو ر خین میں اس پر اختلا ف ہے کہ وہ ؓکب ایمان لا ئے؟ کچھ کہتے ہیں کہ وہ نزول ِ وحی پر ہی ایمان لے آئے تھے۔ کچھ کہتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے دعویِٰ نبوت فرمایا۔ اس وقت وہ مو جو د نہ تھے اور سفر تجا رت پر شام گئے ہو ئے تھے۔ جب واپس آئے اور لو گو ں سے سنا تو وہ حضو رﷺ سے ملے اور تصدیق چا ہی۔حضو رﷺنے فر ما یا کہ ہا ں تمؓ نے صحیح سنا ہے مجھے اللہ تعا لیٰ نے اپنا نبیﷺ مبعوث فر ما یا ہے اور میں یہ کہتا ہو ں کہ اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کو ئی عبا دت کے لا ئق نہیں ہے۔ وہ یہ سن کر ایما ن لے آئے جبکہ پہلے والوں کا کہنا یہ ہے کہ نہیں! جب نزولِ وحی کے بعد حضو رﷺ گھبرا ئے ہوئے گھر پہو نچے تو حضرت خدیجہ (رض) نے حضرت ابو بکر ؓ کو سب سے قریبی دوست ہو نے کی وجہ سے بلا بھیجا اور وہ ؓفورا ً ایمان لے آئے۔اور علی ؓکے ایمان لا نے کے با رے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ چو نکہ حضو رﷺ کے زیر کفا لت تھے اور ساتھ رہتے تھے، تو انہوں نے جب حضو ؐر کو نما ز پڑھتے دیکھا تو پو چھا یہ کیا ہے! حضوؐر نے بتا یا کہ میں نبیﷺؓ ہو ں اور یہ ہم اللہ کی عبا دت کر تے ہیں۔ تو انہوں نے کچھ مہلت ما نگی مگر دوسرے روز ہی صبح کو وہ ایمان لے آئے اور نماز میں شا مل ہو گئے۔مگرحضورﷺ نے انہیں ہدایت فرما ئی کہ ابھی اپنے والد ابو طالب کو مت بتا نا۔ ہمارے خیال میں اس بات میں زیادہ وزن دکھا ئی دیتا ہے کہ وحی کے فو را ً بعد حضرت ابو بکر ؓ ایمان نہیں لا ئے۔
اگر وہ موجود بھی ہو تے تو بھی وہ ایمان نہ لاتے جیسے کہ ورقہ بن نو فل بھی ایمان نہیں لائے۔وجہ یہ تھی کہ ان ؓکا ایمان لا نا موخر اس لیئے رہاکہ اس وقت تک دعوت عام یا خا ص کا حضوﷺ کو حکم ہی نہیں ہو ا تھا۔ اہل ِ خانہ ؓکی بات دوسری تھی کہ انہوں ؓنے اپنی مر ضی سے حضور ﷺکی پیروی شروع کر دی یعنی وہ بھی عبا دات میں شامل ہو نے لگے۔
آپ ًروشنی حرا ً میں پڑھ چکے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو اپنے قبیلہ سے تبلیغ شروع کر نے کا حکم دیا۔اور حضو رﷺ نے تعمیل ِ حکم میں حضرت علی ؓسے فرمایا کہ تم سب کو دعوت دے آؤ اور کھانے پینے کا انتطام کر و علی ؑ سب کوبلا کر لا ئے، بہت تھو ڑا سا کھانا میسر ہو سکا جو کہ ایک چھو ٹے سے
بر تن میں تھا۔جس سے ایک آدمی کا بہ مشکل پیٹ بھر سکتا تھا اور پینے کے لیئے ایک پیالہ میں دودھ تھا۔جبکہ حا ضرین کی تعداد مو رخین نے چا لیس سے زیا دہ بتا ئی ہے۔ جب سب لو گ جمع ہوگئے تو حضو ؐر نے حضرت علیؓ سے فر مایا کہ سب کو پہلے کھلا ؤ پلا ؤ پھر با ت کر ینگے۔ جب سب سیر ہو کر کھاچکے تو حضوؐ ؐر نے ان سے پو چھا کہ تم نے مجھے کیسا پا یا؟ تو سب نے یک زبان ہوکرکہا کہ صا دق اور امین۔ تب حضو ﷺ نے ان کو دین کی طر ف دعوت دی جس کے جواب میں ابو جہل یہ کہہ کر بڑ بڑاتا ہو ا چلدیا کہ محمدﷺ تو تو بہت بڑا جادو گر ہے۔ کیا تو نے ہمیں یہ ہی جا دو دکھانے کے لیئے یہاں بلا یا تھا۔
چو نکہ وہ حضو رﷺ کا چچا تھا اور اس کا شمار خاندان کے بڑو ں میں ہوتا تھا لہذا اس کے اٹھنے سے با قی سب لو گ بھی اٹھ گئے۔ صرف حضرت علیؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں آپؓ کا ساتھ دو نگا اور میں آپ پر ایمان لا یا۔یہاں اگر آپ اس کو اور پڑھ لیں کہ پہلی وحی کے بعد تقریبا ً چھ ماہ تک وحی نہیں آئی اور حضو ﷺ پریشان رہنے لگے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نارا ض تو نہیں ہوگئے؟ پھر وحی نازل ہو ئی۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس کے بعد کہیں جاکر اہل، کنبہ کو دعوت دینے کا حکم ملا اور پھر کہیں جا کر قریش کو دعوت دینے کا اور دعوت ِ عام کا حکم ہو ا لہذا بعد والے مو رخین نے جو لکھا ہے وہ زیا دہ در ست معلوم ہو تا ہے۔واللہ عالم۔
(شمس جیلانی )بقیہ اگلی قسط میں پڑھئے۔

شائع کردہ از tareekh | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

عشرہ مبشرہ (۲) شمس جیلانی

ہم گزشتہ مضمو ن میں یہاں تک پہو نچے تھے کہ حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ کے ساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جنگ جمل سے پہلے راضی ہو چکے تھے اور جو ان کے درمیان مروان نے غلط فہمی پیدا کی تھی وہ دور ہو چکی تھی ااور وہ میدان ِ جنگ سے وا پس چلے گئے تھے اور واپس جا تے ہو ئے شہید کر دیئے گئے۔اس کے با جود انؓ کو کسی طرف سے مورد ِ الزام ٹھہرا نا اور اس کی بنیا د پر اس روایت کو غلط قرار دینا ظلم ہو گا اور کوئی بھی مومن کچھ بھی ہو سکتا ہے،مگر ظالم نہیں ہو سکتا؟اب آتے ہیں اس طرف کے اس میں بعد میں ایک یا دوسرا نام شامل کر دیا تو اس کی وجہ سے یہ روایت درست نہیں ہو سکتی؟اس کے لیئے پہلے تو یہ وعید ہے کہ جس نے بھی ایسا کیا جو حضور ﷺ نے نہیں فر ما یا تھا اور ان کے نام سے شامل کر دیا تو وہ اپنا ٹھکا نہ دو زخ میں بنا لے؟ اگر کوئی اس وجہ سے اس روایت کو رد کرتا ہے، تو وہ تو جا ئے گا ہی اپنے مقام مو عود پر مگر جو اس ظلم کا مرتکب ہو گا وہ روز قیامت اللہ اور رسول ﷺ کو کیا منھ دکھا ئے گا؟ ہاں اگر وہ بھی یزید کی طرح اس بات کو مانتے ہیں کہ آخرت کو ئی چیز نہیں ہے تو پھر دوسری بات ہے؟ میری اس بات کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ حضرت امام حسین ؓ نے اپنی شہادت سے چند لمحہ پہلے جب ان کو شمر نے آخری بار یہ پیش کش کی کہ ً اے بنت ِ ؑفاطمہ سلام علیہا اگر آپ یزید کی بیعت کر لیں تو سب کچھ آپ کے لیئے حا ضر ہے اس کے جواب میں انہوں ؑ نے اوروں کی طرح بہت سی با تیں نہیں فرما ئیں؟جو بہت سے لو گ اکثر بیان کر تے ہیں؟ صرف اتنا فرما یا کہ میں مر نا پسند کرونگا مگر اس کے ہا تھ میں ہا تھ کیسے دے سکتا ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتاہو؟ یہ اتنا جامع جواب ہے جس پر کتا بیں تصنیف کی جا سکتی ہیں؟ کیونکہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والا اپنا رشتہ مسلمانوں سے لا کھ جو ڑے، مگر وہ مسلمان اس لیئے نہیں ہو سکتا کہ اسلام کی اساس آخرت اور احتساب پر ہے اور اگر کو ئی اس کو ہی نہیں مانتا تو وہ مسلمان کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا بھی جواب میں پھر آپ پر ہی چھوڑتا ہوں اس کی مزید وضا حت قرا ٓن میں سورہ بقر کے آخری رکوع میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود فرما دی ہے کہ ایمان کن کن چیزوں پر لا نا فرض ہے جو مزید تحقیق کر نا چاہیں و ہاں جاکر وہ پڑھ لیں، وہاں ان کو ایمان کی پوری تفصیل مل جا ئے گی کہ ایک مسلمان کن کن چیزوں پر ایمان رکھنے کے لیئے مکلف ہے۔ اب آتے ہیں اس پر کہ وہاں ایک نام کسی ایک روایت میں ملتا ہے۔ وہ ہیں حضرت معا ویہ ؓ اور کہیں کہیں کچھ اور بھی ردو بدل ہے جبکہ اضافت میں معروف نام ایک ہی ہے۔ لہذا غیر معروف ناموں کے لیئے میرے لیئے کچھ لکھنا مشکل ہے اور یہ بھی کہ وہ کہاں سے شامل ہو ئے ممکن ہے کسی نا دان دوست نے خوشامد میں حضرت معاویہ کا نام اموی دور میں شامل کر دیا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے کسی بد خواہ کا کا رنامہ ہو؟ اس پر بھی فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں، یہ بات کیسے نبھ سکتی ہے جبکہ اس کے لیئے ان کی پو ری تا ریخ موجود ہے کہ وہ مسلمان ہی فتح مکہ کے بعد ہوئے تھے، جبکہ یہ واقعہ مدینہ کے ابتدائی دور کا ہے جب حضورﷺ نے یہ خوش خبری دی۔ دوسرے اس میں کو ئی بھی سابقین میں سے نہیں بلکہ سب اولین میں سے ہیں اور کوئی بھی ان میں سے خدمات کے اعتبار سے کم نہیں ہے۔ ان میں چار نام تو وہ ہیں جو کسی تعارف کے محتاج ہی نہیں ہیں۔ جن کو حضور ﷺ کے بعد انکا خلیفہؓ بننے کا شرف حا صل ہوا۔
جبکہ پانچواں نام حضرت ابو عبیدہ ؓالجراح کا ہے جن کی خدمات بے حساب ہیں جن کا تقویٰٰ اور ایمان بے مثال ہے اور جن کی کا توکل علی اللہ اور اتبا ئے سنت میں جواب نہیں ہے۔ جنکو امین الامت کا خطاب در بار رسا لت مآب ﷺ سے عطا ہوا تھا، جبکہ نجران کے عیسایوں نے آیت مبا ہلہ سے ڈر کر جزیہ دینا قبول کیا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپ ہما رے ساتھ کسی ایماندار آدمی کو جزیہ کی وصولی کے لیئے کر دیں تا وہ اکھٹا کر کے ہم اس کے سپرد کر دیں۔ حضور ﷺنے فر ما یا کہ میں کل تمہا رے سا تھ ایسا آدمی کرونگا جو انتہا ئی امانت دارہے اور ہر امت کا ایک امین ہو تا وہ ؓاس امت کا امین ہے۔ دوسرے دن وہ جب حاضر ہو ئے تو بقول حضرت عمر ؓ کہ ً میں سمجھ رہا تھا کہ وہ میں ہو نگا (اس لیئے) بار میں اپنی گردان ذرا اونچی کر تا کہ شاید حضور ﷺ کی نظر مجھ پر پڑ جا ئے، مگر حضور ﷺنے چاروں طر ف نگاہ دوڑائی اور ان کی نگاہ ِ مبارک حضرت ابو عبیدہ ؓبن الجراح پر جا کر مر کوز ہو گئی اور اس وقت انہوں ﷺ نے مذکورہ الفاظ دہر ائے کہ ہر امت کا ایک امین ہو تا ہے اور یہ اس امت کے امین ہیں ً وہ بھی ان میں سے تھے، جو مکہ میں بت پر ستی شروع ہو نے کے بعد ہر دور میں ایک تو حید پر ستوں کا گروہ رہا، شا ید اللہ سبحانہ تعا لیٰ کی اس میں یہ مصلحت رہی ہو کہ دن اور رات کو لوگ پہچان سکیں،اس لیئے کہ ان کی طرف حضرت اسمعٰیل ؑ کے بعد حضور ﷺ تک کو ئی نبی بھیجا گیا،واللہ عالم۔ لہذا جیسے ہی انہیں معلوم ہوا ویسے ہی وہ لوگ حضرت ابو بکر ؓ ساتھ ہی ایمان لے آئے۔ کیونکہ کھیتی پک چکی تھی، اور ان کے سا منے حضور ﷺ کاوہ شاندار کردار موجود تھا، وہ خوبیاں بھی مو جود تھیں جو ایک نبی ﷺ میں ہو نا چا ہیئے ان میں سے بہت لوگ وہ بھی تھے جو تجارت کے سلسلہ میں شام وغیرہ جا تے رہتے تھے اوروہ وہاں جاکر تلاشِ حق میں بھی سرگرداں رہتے تھے۔لہذا اللہ کی دوسری کتابوں سے بھی نہ صرف کسی حدتک واقف تھے بلکہ ان پردسترس بھی رکھتے تھے۔
اب بات کر تے ہیں کہ اس پر کہ ایمان لا نے کے بعد حضرت ابو عبیدہ ؓ الجراح کا کردار کیا رہا؟ وہ یہ تھاکہ وہ ہر لمحہ حضور ﷺ کے ساتھ سایہ کی طرح رہے۔ یہ نہ صرف مہاجرت میں ثابت قدم رہے بلکہ مشکلات میں بھی ثابت قدم رہے۔ وہ غزوہ بدر میں بھی شامل تھے،جبکہ اہل ِ بدر ؓکے بارے میں حضورﷺ کا ارشاد ِگرامی ہے یہ کہ ان کے سب گنا ہ معاف ہیں جو غزوہ بدر میں شامل تھے۔ اور اسکا عملی ثبوت حضرت بلتع ؓ کے واقعہ میں ملتا ہے کہ مکہ پرفوج کشی کی خبر ایک خط ذریعہ انہوں ؓ نے اہل ِ مکہ کو بھیجی جس پر حضور ﷺ کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مطلع فر ما دیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضورﷺ نے اس کے تعاقب بھیجا اور انہوں نے اس لونڈی کو جو خط لے جا رہی تھی تیزی سے جا کر را ہ میں ہی پکڑالیااور اس سے خط لیکر دربار ِ نبوی ﷺمیں واپس پہونچے تو حضرت عمر ؓ حضرت بلتع ؓکے قتل کے درپر ہوئے مگر حضورﷺ نے فر ما یا کہ نہیں! کیا تمؓ جانتے نہیں ہو کہ غزوہ بدر میں حصہ لینے والے سب صحابہ ؓ کے اگلے پچھلے گنا ہ معاف ہیں ًیہاں ان کے لیئے جواب موجود ہے جو یہ فرما تے ہیں کہ کسی کو کیسے جنت کا سرٹیفکٹ عطا کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ ان میں کچھ خود اس کے قائل ہیں کہ فلاں کی شفاعت سے یا فلا ں کی محبت رکھنے سے وہ لوگ جنت میں جا ئیں گے اس کے بعد دوسرا واقعہ میں خود حضرت عا ئشہؓ کے با رے میں ہے کہ ام ِ مسطح ؓ جوکہ حضرت مسطح ؓکی والدہ تھیں انہوں ؓ نے کو انہیں کو سنے سیے روکنا کہ وہ تو بدری مجا ہدین میں شامل ہیں آپؓ ان کو برا کیوں کہہ رہی ہو؟
اس کے بعد بیت الرضوان کے صحابہ کرامؓ ہیں جو افضل ہیں۔ ان میں بھی یہ شامل ہیں۔ یہ تھیں احا دیث۔ اب آخر میں پھر قرآن کی طرف آتے ہیں کہ پھر وہیں آجا ئیے سورہ بقر کا آخری رکوع جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا کہ "میں جس کو چا ہوں معاف کر دوں اور جس کو چا ہوں سزا دوں ” پھر کئی جگہ فر ما یا کہ جو غلطی کرے اور تا ئب ہو جا ئے میں اس کے گناہ معاف کر سکتا ہوں۔ یہاں میں نے خصوصی طور پر صرف ابو عبیدہ الجرا حؓ کا ذکر اس لیئے کیا ہے کہ وہ قطعی غیر متنا زع شخصیت ہیں اور تاریخ میں بھی کو ئی ان پر ا لزام نہیں ہے۔ یہاں ہم نے صرف اس روایت کے رد کے مقابلے اپنی دلا ئل پیش کر دیئے ہیں۔ انشا اللہ اگلی قسط عشرہ مبشرہ کی سیرت پر ہو گی۔ اسےاگلی قسط میں پڑھنا مت بھولیئے گا۔
()

شائع کردہ از tareekh | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

عشرہ مبشرہ ۔۔۔ (۱) از شمس جیلانی

قارئین ِ گرامی۔ الحمد للہ! میں آپ لوگوں کے تعاون سے اب تک دنیا بھر کے اخبار رات کے ذریعہ اکیس   کتابیں سلسلہ وار پیش کر چکا ہوں۔ جن میں سے با لترتیب سیرت پر ہیں جن کے نام حقوق العباد اور اسلام،سیرتِ انبیا ئے کرام ؑ، سیرتِ حضو ر ِ پاک ﷺ،سیرت ِحضرت ابو بکر ؓ، سیرتِ حضرت عمرؓ، سیرت ِ حضرت عثمان ؓ سیرتِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، سیرتِ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، سیرت حضرت ِ امام حسن ؑ اور سیرتِ حضرت امام حسین ؑ ہیں۔ جنہیں آپ لوگوں نے قسط وار پڑھا اور پسند کیا ،ان میں سے نو بعد میں کتابی شکل میں آچکی ہیں صرف دو باقی ہیں  جو کتابی شکل میں شا ئع نہیں ہوسکیں ہے ایک سیرت ِانبیا کرام ؑ۔ دوسری عشرہ مبشرہ۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اب لکھنا بند کردوں؟کیونکہ میں اب اُس عمر میں پہونچ گیا ہوں جس میں عالم بالا کو روانگی ہر وقت متوقع ہوتی ہے، یعنی میں اب اپنی عمر کے88 میں داخل ہو چکا ہوں اب نہ تو وہ توانائی باقی نہیں  ہے کہ دن بھر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا رہوں اوردن رات مسلسل کام کروں، لیکن میں چا ہتا تھا اب تک جو کام کیا ہے وہ کتابی شکل میں آجا ئے۔ کیونکہ اخبار وں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی گو کہ ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جنہوں نے ایک ایک اخبارکا تراشہ کاٹکر رکھا ہوا ہے مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برا بر ہے جبکہ میرا زیادہ کام اتحاد بین المسلمین پر مشتمل ہے۔ اس لیئے میں نے کوشش کر کے زیادہ تر کتا بیں  گزشتہ سال تک نکالی ہیں اور حضور۔مگر ابھی بھی دو کتابیں اور ہزاروں کالم جو اخبارات میں ہفتہ وار آچکے ہیں ابھی تک باقی ہیں جبکہ حضور(ص) کی سیرت بھی اب وڈیو کی شکل میں آچکی ہے اور آڈیومیں آنے والی ہے میں نے کالموں پر اس لیئے توجہ نہیں دی کہ میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے کالم اپنی موت آپ مر جا تے ہیں؟ مگر ان کے با رے میں بھی میرے دوست اور قارئین مجھ سے متفق نہیں ہیں اوران کا اصرار ہے کہ ان میں بھی بہت سے کالم بہت اچھے ہیں اور ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں، لہذا ان کو کتابی شکل میں آنا چاہیئے؟ دوسری طرف میرے قارئین کا مطالبہ ہے کہ میں لکھنا بھی ترک نہ کروں؟ جو مجھے سب سے زیادہ عزیزہیں۔ لہذا میں ان کی بات نہیں ٹال سکتا۔اس لیئے میں نے سوچا کہ تسلسل جا ری رکھنے لیئے میں صحابہ کرام ؓ پر لکھوں اور خاص طور سے ان صحابہ ؓ کو روشناس کرا ؤں جن کے بہت سے کا رنامے ہیں، مگر وہ اتنے مشہور نہیں ہو سکے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں میڈیا اتنی ترقی یا فتہ نہیں تھی۔
جب میں نے یہ ارادہ ظاہر کیا تو میرے بہت سے دوستوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ اور صحابہ ؓ کی طرف جا ئیں بہتر یہ ہے کہ آپ عشرہ مبشرہ بھی لکھیں تاکہ یہ جو آجکل متنا ز ع مسئلہ بنا ہوا ہے آپ کے غیر جانب دار قلم کے ذریعہ سے یہ بھی حل ہو جا ئے؟ اس امید پر کہ آپ ہمیشہ کی طرح میرا ساتھ دیں گے اور مجھ پر حسب سابق اعتماد فر ما ئیں گے میں نے اس کا بیڑہ اٹھا لیا ہے اور ذات ِ باری تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ مجھے اس سے بھی انشا اللہ سرخرو کریگا۔
ورنہ میرے لیئے آسان راستہ تو یہ ہی تھاکہ اپنی بھر پور مقبولیت کو سنبھال کررکھتا اور اس پر بات کیئے بغیر گزر جا تا۔ مگر میرے سامنے وہ حدیث ہے کہ میرے آقا محمد مصطفیٰﷺ نے فر ما یا کہ وہ فلا ح پا گیا؟۔ صحابہ کرام ؓ نے پو چھا کہ کون؟ تو حضور ﷺ نے فرما یا ً وہ جس کو اللہ نے علم دیا اور اس نے اسے تقسیم کیا، اور وہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی راہ میں خرچ کیا اور وہ جس کوقنا عت عطا فر مائی ًجبکہ ایک دوسری حدیث میں غیب سے روزی کا بھی ذکر ہے؟ الحمد للہ! میں اس کا شکر گزار ہوں کے اس نے مجھے یہ چا روں چیزیں عطا فرما ئی ہوئی ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں اس کے شکر کے طور پر کہ اس نے میری خدمات قبول کیں اور مجھے اپنے دیئے ہو ئے علم میں سے خرچ کر نے کی توفیق دی، یہ ا میرا فرض بنتا ہے کہ حق کہنے، حق لکھنے اور اس کی راہ میں خر چ کرنے سے پہلو تہی نہ کروں؟ میں اس کے بھروسہ پر اور آپ کے اس اعتماد کی بنا پر جوآپ مجھ پر پچھلے سات عشروں سے کرتے رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر بھی کچھ لکھوں۔ لہذا میں اللہ کانام لیکر اس متنا زع عنوان کو شروع کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کے اللہ میری مدد فرما ئے۔ آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ میرے لیئے دعا فرما ئیں۔ میں آپکا نہا یت شکر گزار ہو نگا۔
یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک دن مسجد ِ نبوی میں حضور ﷺ تشریف فرما تھا کہ حضورﷺ نے فرما یا کہ بشارت ہے جنت کی؟ صحابہ کرام ؓ نے حسب عادت پو چھا کہ کس کو؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ حضور ﷺ کی حسن ِ عطا ہے کہ جب کو ئی وحی آتی ہے یا کسی اوراہم بات پر لوگوں کو اس پر با خبر کرنا چاہتے تھے تو پہلے اس کی سرخی اپنی ﷺزبان ِ مبارک سے عطا فر ما کر خاموش ہوجا تے، جبکہ لو گ یہ سنتے ہی ہمہ تن گوش ہو جا تے کہ کوئی وحی آئی ہے اور حضور ﷺ اس پر مطلع فرما نا چاہتے ہیں؟ یہاں چونکہ جنت کی بشارت تھی لہذا اور بھی اشتیاق بڑھا اورلو گ ہمہ تن گوش ہو کر پو چھنے لگے کہ حضور ﷺ کس کو جنت کی بشارت عطا فر ما رہے ہیں؟ فرما یا ابوبکر، عمر،عثمان، علی، ابو عبیدہ الجراح، زبیر بن عوام، طلحہ، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمٰن بن عوف کو،یہاں تک پہونچے تھے کہ یکا یک حضرت سعیدؓ بن زید اٹھ کر کھڑے ہو ئے اوردرخواست کی حضور ﷺ میرے لیئے بھی دعا فر ما ئیے کہ میرا نام بھی ان میں شامل ہو جا ئے، بس پھر کیا تھا کہ تمام نظم اور ضبط ٹوٹ گیا اور ہر ایک یہ ہی در خواست کر نے لگا توحضورﷺ نے فرما یا کہ ً تم سب پر سعید بن زید سبقت لے گئے ً
یہ واقعہ سن چار ہجری کا ہے اور اس وقت مسجد میں کثیر تعداد صحابہ کرام ؓ کی موجود تھی۔ اس کو امام احمد ؒ نے اپنی کتاب مسندِ احمد میں بیان کیا ہے۔ جبکہ اس پر بخاری اور مسلم خاموش ہیں؟ مگر داؤد ترمذی وغیرہ سب نے لکھا لیکن ان میں سے کچھ نے اس کو خود حضرت سعیدؓ سے روایت کیا ہے جبکہ وہاں نو نام تو یہ ہی ہیں مگر تربیت کچھ اور ہے،اور عبارت بھی کہ حضرت سعید ؓ اس با رے میں فرما تے تھے کہ ً دسواں نام بھی تم کہو تو میں بتا دوں؟اور جب کوئی پو چھتا تو اپنا نام بتادیتے۔ یہ طرز تخاطب اکثر آج بھی لوگ انکساری کی وجہ سے اختیارکر تے ہیں کہ فلاں موقعہ پر فلاں فلاں تھے اور جب کوئی پو چھتا ہے کہ اور کون کون تھا، تو آہستہ سے کہدیتے ہیں اور یہ آپکا خام بھی تھا۔
ان کے اس طرز تخطا طب کی وجہ سے بات یہاں تک بڑھی کہ لوگوں نے انہیں ؓ کا نام نکال کر وہاں کسی اور کا لگا دیا اس میں ایک صاحب فتح مکہ کے بعد جوکہ سن آ ٹھ ہجری میں ہو ئی تھی مسلمان ہو ئے تھے انہیں بھی ایک آدھ جگہ شامل کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ضد میں ایک گروہ اس روایت کا ہی منکر ہو گیا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس میں تین نام شامل ہیں جن میں سے تینوں مسلمانوں میں خانہ جنگی کا با عث بنے جبکہ تیسرے اس وقت مسلمان ہی نہیں ہو ئے تھے؟
یہ بات بشمول جنگ ِ جمل اور بہت سی ایسی جنگوں کے بارے میں ہے۔ مگر ہم پہلے یہاں جنگ جمل کو لیتے ہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ دونوں ؓ وہاں گئے تھے ضرور، مروان بن الحکم کے پرو پیگنڈے سے متا ثر ہوکر! مگر جب حضرت زبیرؓ بن عوام حضرت علیؓ کے سامنے ہوئے اور انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وہ حد یث یاد دلا ئی کہ حضور ﷺ نے فرما یا کہ ً تم دونوں ایک دوسرے کے ایک دن آمنے سامنے ہو گے اور علی حق پر ہو نگے ً تو انہوں نے یہ سن کر تلوار پھینک دی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گلے لگ گئے۔ اور شکا یت کی اگر ً آپ مجھے یہ بات پہلے یاد دلا دیتے تو میں مکہ ہی نہیں جا تا اور نہ ہی بات یہاں تک پہو نچتی ً یہاں کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتنی اہم بات انہیں یا د کیوں نہیں رہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کی بچپن کی بات تھی کہ ً ایک دن دونوں بھا ئی ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈا لے ہوئے کہیں سے تشریف لا رہے تھے کہ حضورﷺ نے دیکھا اور یہ ارشاد فرما یا ً۔اور انسان عمو ما ً بچپن کی وہی با تیں یاد رکھتا ہے جو اس کے ذہن کو ہلاکر رکھدیں اور اس کے نتیجے میں ذہن میں بیٹھ جا ئیں۔ بہر حال ان کے یاد دلانے پر وہ بات انہیں یا د آگئی اور وہ میدان ِجنگ سے واپس چلے گئے جبکہ جاتے ہو ئے انہوں ؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبد اللہ ؓ بن زبیر کو لے جانا چا ہا۔ مگر وہ کہہ کر بات نہیں ما نے کہ ہم جنکو لیکر آئے ہیں،ان کو کس منھ سے یہ بات کہیں، پھر وہ حضرت طلحہؓ سے ملے ان کو بھی ساری بات بتا ئی، پھر جبکہ وہ اپنا سامان لینے بصرہ جا رہے تھے کہ راستہ میں شہید کر دیئے، اور یہ ہی حال حضرت طلحہ ؓکا ہوا کہ وہ بھی واپس جاتے ہو ئے شہید کر دیئے گئے۔ یہ حقائق جاننے کے با وجود اگر ان کو جنگ جمل کا ذمہ دار قرار دیا جا ئے، جبکہ وہ اس وقت اس دنیا ہی میں نہیں تھے تو کیا یہ ظلم نہیں ہو گا؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ لیکن اس کے بعد سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ پھر جنگ کیوں ہو ئی؟ اس کے آگے سب کو پتہ ہے کہ حضرت عا ئشہؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے درمیان بھی مفا ہمت ہو چکی تھی، کہ رات کے اندھیرے سے فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے دونوں گروہوں پر بہ یک وقت حملہ ہو ا اور دونوں یہ سمجھے کہ دوسرے فریق نے خلاف ورزی کی۔ حضرات اس کے پیچھے وہی دما غ کار فرما تھا جو ان کو یہاں تک لیکر آیا تھا جو پہلے حضرت عثمانؓ کی شہادت کا با عث بنا، جو بعد میں حضرت طلحہ ؓ اور زبیرؓ کی شہادت کا با عث ہی نہیں بنا، بلکہ ؓایک کو اس نے خود تیر ما رکر شہید کیا۔
اسی دن جنگ پر قابو پانے کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ،ام المونین حضرت عا ئشہ ؓ صدیقہ کو بصد احترام چالیس معزز خواتین کے جلو میں شہر لے گئے، اس کے بعد یہ بیان حضرت علی ؓ اور حضرت عا ئشہؓ صدیقہ کا اس بات گواہ ہے کہ ً ہم دونوں میں کو ئی اختلاف نہیں ہے ً اور اس پر مزیدیہ کہ حضرت علیؓ کا انہیں ؓ ایک منزل تک رخصت کرنے کے لیئے تشریف لے جانا اور بھر حضرت حسنؑ کو ان کے ہمرا ہ مکہ معظمہ تک بھیجنا۔ جو کہ تا ریخ کے صفحات میں ابھی تک محفوظ ہے یہ ثابت کر تا ہے۔ کہ یہ لوگ بہکا ئے میں آکر یہاں تک آئے ضرور،مگر بعد میں اپنی غلطی سے رجوع کر چکے تھے جبکہ دو اس دنیا سے ہی چلے گئے اور حضرت عا ئشہ ؓ ؓ نے تا حیات سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ جبکہ انکی ؓواپسی سے پہلے یہ بات کھل چکی تھی کہ اس تمام کھیل کے پیچھے کون تھا؟ باقی آئندہ

شائع کردہ از tareekh | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

حضرت علی کرم اللہ وجہ کی زندگی اور شہادت ۔۔۔ شمس جیلانی

یہ ماہ مبارک جہاں رحمتوں کا مہینہ ہے ، بخششوں کا مہینہ ہے، اسکو ایک فضیلت یہ اور بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عطا فر مادی کہ اپنے ایک نیک بندے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو شہادت عطا کر کے اس مہینے کو مزید سرفراز فر مایا مزیداعزازسے مزین فر مایا۔ ہم یہاں ان کی پیدا ئش سے لیکر شہادت تک کاایک مختصر سا واقعا تی خاکہ پیش کر نے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ تاریخ میں چاند اور ستاروں کی طرح جگمگاتے ملیں گے اور ان کا انکار یا تردید کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیئے ناممکن ہے ۔گوکہ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو کسی کی ضد میں ،یا بہکائے میں آ کر کسی سے نفرت یا محبت کر نا شروع کر دیتے ہیں ؟ جبکہ آج کی دنیا پروپیگنڈے کی دنیا ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی کرادار کشی کی تاریخ توصدیوں پر انی ہے جس میں اشرفیوں کو بھی دخل تھا ۔وجہ یہ تھی کہ وہ عظمت کا ایک ایسا مینارتھے جس کی ان کے بعد نقل ممکن نہ تھی ۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ ارشادِ گرامی سند ہے کہ “ علی “ تمہارا معاملہ بھی عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہوگا کہ کچھ تمہیں اتنا بڑھا دیں گے کہ جہنم میں جا ئیں گے ( یہاں لوگ اپنے مطلب کے معنی نکال لیتے ہیں لہذاا میں یہاں پر وضا حت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد غالبا“ وہ دونو ں فرقے تھاجو کہ حضرت علی کی زندگی میں ہی بن گئے تھے جن سے خود انہوں نےجنگ کی، نہ کہ ان کے ماننے والے) اور کچھ اتنا گرا ئیں گے کہ جہنم اپنا ٹھکانہ بنا ئیں گے “ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بچا ئے کہ یہ بہت بڑی وعید ہے اگر لوگ سمجھیں ؟ پھر ایک شکایت کرنے والے کو حضور (ص) کایہ جوا ب کہ جو “علی “سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو علی سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے “ اور یہ کہ “ علی تم میں سب سے زیادہ خوف ِ خدا رکھنے والا ہے “
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خصو صیات یہ تھیں کہ انہوں نے ہمیشہ فقر اور فاقے کی زندگی گزاری وہ اپنے کردار میں امام السالکیں اور امام المتقین تھے ؟ ان کی ولایت کے سلسلہ میں کسی بھی فر قہ کو اختلاف نہیں ہے ۔اور یہ سلسلہ اولیا ئے کرام ان ہی کا عطا کردہ وہ فیض ہے جوآج تک جاری ہے اور انشا اللہ قیامت تک جاری رہے گا ۔اس لیئے کہ وہ اپنے پیچھے اہلِ سنت میں بھی سترہ سلسلے چھوڑ گئے ہیں جو ان کے بعد دنیا میں اسلام پھیلا نے کا با عث ہو ئے ۔ ورنہ باد شاہ تو اسلام کو پہلے ہی ٹھکا نے لگا دیتے ۔ یہ ہی ان کی وہ خوبیاں تھیں جو ہمیشہ ہر جگہ دنیا میں ان کے آڑے آتی رہی ہیں ۔ حضرت علی کی فضیلت میں اتنی احادیث ہیں ان کو بیان کرنے کے لیئے ایک ضخیم کتاب چا ہیئے۔ جبکہ حضرت علی کے بارے میں جو احادیث ملتی ہیں ان میں بعد میں آنے والوں اور بنوانے والوں کی طرح اشرفیوں کو کوئی دخل نہیں ہے ، کیونکہ ان کے پاس اشرفیاں کبھی تھیں ہی نہیں ۔وہ جو کچھ اور جیسے کچھ تاریخ میں موجود ہیں وہ اپنے ذاتی کر دار اور ان قر بانیوں کی بنا پر ہیں جو انہوں نے اور ان کے اہلِ خاندان نے نبی کریم (ص) اور اسلام کی معاونت میں دیں اور اس سلسلہ میں تمام مشکلات بھی جھیلتے رہے ۔ جبکہ شاہوں کے اشرفی والے عمل کی وجہ سے احادیث کی تعداد تو ایک وقت میں بڑھ کر سات لاکھ تک جا پہو نچی ،جو کہ محد ثین کی کوششوں سے اب گھٹ کر سات ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔
لیکن ابھی بھی جو احادیث حضرت علی کرم اللہ کے بارے میں احادیث کی مستند کتابوں موجود ہیں وہ بھی اتنی ہیں کہ یہ مختصرصفحات ان سب کو بیان کرنے کے لیئے کافی نہیں ہیں ۔ لہذا میں یہاں صرف ایک اورمستند حدیث پیش کر کے ان کے بارے میں تاریخی فضائل بیان کرناشروع کر تا ہوں جو تاریخ کی کتابوں میں بلا تخصیص موجود ہیں۔یہ حدیث مسند احمد میں ہے اور انہوں نے اس کے حوالے بھی دیئے ہیں ۔اسی کو ابن ِ کثیر نے بھی “البدایہ والنہا یہ “ میں نقل کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ “ کوئی مومن علی سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منا فق علی سے خوش نہیں رہ سکتا “
اس کے بعد اب وہ چند حقائق، جن میں وہ یکتا نظر آتے ہیں؟ سب سے بڑی فضیلت تو انہیں یہ حا صل ہے کہ وہ واحد شخص تھے جو کہ اپنی پیدائش سے لیکر حضور ﷺ کے وصال تک ہمیشہ ان کے ساتھ دکھا ئی دیئے ۔ اس لیئے کہ جب وہ پیدا ہو ئے تو حضور ﷺ ان کے گھر میں قیام پذیر تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد ِ محترم حضرت ابی طالب کے زیر کفالت تھے ۔ پھرجب حضور ﷺ کی شادی حضرت خدیجہ الکبریٰؓ سے ہو گئی تو اس وقت حضور (ص)نے اپنے چچا کا بار ہلکا کر نے کے لیئے جو کہ کثیر العیال تھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنی کفالت میں لے لیا، اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ کہ وہ اس تعلیم کی عملی تفسیر پیش کر نے کے لیئے بیچین ہوں کہ “ احسان کا بدلہ احسان ہے “ گوکہ ابھی یہ آیت نازل نہیں ہو ئی تھی ۔مگر اس ہستی کے لیئے جو کہ مجسم قر آن تھی یہ قر آن کی عملی تفسیر پیش کر نے اور امت کو سبق دینے کا بہترین مو قع تھا۔ کیونکہ آئندہ چل کرانﷺ کا ہر فعل قابل ِ اتباع بننا تھا ؟
ابھی حضرت علی کرم اللہوجہہ کی عمر دس گیارہ ہی برس تھی کہ حضور ﷺکو رسالت عطا ہو ئی ۔ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عجیب بات دیکھی کہ حضرت خدیجہ ؓ اور ان کے عمزادﷺ نماز پڑھ رہے ہیں ، چونکہ یہ طریقہ عبادت نیا تھا اور وہ اس سے مانوس نہ تھے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پو چھتے ہیں یہ آپﷺ کیاکر رہے ہیں ؟ حضورﷺ نے فر مایا کہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول ﷺ مقرر فر مایا ہے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ ابھی حضور ﷺ کو تبلیغ کی اجازت نہیں ملی تھی۔ انﷺ پر ایمان لانے والی روئے زمین پر صرف ایک ہی ہستی ان کی زوجہ محترمہ ؓ تھیں جو پہلی وحی سنتے ہی پکار اٹھی تھیں کہ بے شک آپ نبی ﷺ ہیں اور اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا اس لیئے کہ آپ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں مظلوموں کی مدد فر ماتے ہیں ۔ چو نکہ حضور ﷺ اپنے طور پرکچھ نہیں کرتے تھے تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آجا ئے ۔جس کی خود اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے بھی تصدیق فر مائی ہے کہ “یہ نبی اپنی مر ضی سے کچھ نہیں کہتے یہ وہی کچھ کہتے ہیں جو میں حکم دیتا ہوں “ لہذا ابھی نہ حکم ملا تھا نہ تبلیغ شروع ہوئی تھی ، اس لیئے کسی اور کے ایمان لا نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عبادت میں شامل ہونا چا ہا ، توحضور ﷺ نے فر مایا کہ اس کے لیئے تم پہلے اپنے والد سے اجازت لے لو، مگر ساتھ میں یہ بھی تاکید فر مادی کے ان سے ابھی ذ کر نہ کر نا کیو نکہ وجہ وہی تھی کہ وہ اس سلسلہ میں حکم خداوندی کے منتظر تھے، مگر حضرت علی کرم الل وجہہ نے ضد کی اور دوسرے روز وہ بھی شاملِ جماعت ہو گئے ۔ پھر وہ وقت آیا کہ وہ آیت نازل ہو ئی کہ “ تم اپنے اہلِ خاندان کو دین کی دعوت دو اور انہیں جہنم سے بچا و “ حضرت علی کرم اللہ کو حضور (ص) نے حکم دیا کہ سب قرابتداروں کو دعوت دو اور کچھ ان کے لیئے کھانے پینے کا بھی بندو بست کرو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کہیں سے ایک چھو ٹے سے بر تن میں کھانا لے آئے اور اور ایک چھو ٹے سے ہی بر تن میں دودھ بھی، جو ایک آدمی کے لیئے بھی کا فی نہ تھا۔ جبکہ اس موقعہ پر چالیس سے زیادہ خاندان ِ نبوت کے افراد مد عو کیئے گئے تھے اور موجود بھی تھے۔ حضور (ص) نے پہلے کھانا شروع کرایا ، پھر جب سب سیر ہو گئے ، مگر کھانا اور دودھ جوں کا توں رہا تو پھر حضور ﷺ نے وہ مشہور جملے ارشاد فر مائے کہ اگر میںﷺ یہ کہوں کہ کوہ ِ صفا کی دوسرے طر ف غنیم کی فو ج آپہو نچی ہے تو تم لوگ یقین کرو گے ؟ سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ بے شک ! اس لیئے کہ آپ صاد ق اور امین ہیں آپﷺ کی زبان سے ہم نے کبھی کو ئی غلط بات نہیں سنی ۔ تب حضور ﷺ ان سے دوبارہ مخاطب ہو ئے اور فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہو ں تو کیا تم مانوگے ؟
اس وقت وہی ایک اکیلابچہ تھا جو اٹھ کرکھڑا ہو تا ہے اور کہتا ہے کہ میں آپﷺ پرایمان لا تا ہوں ، حضور ﷺاسکو بٹھا دیتے ہیں، پھر حضورﷺ پنی بات دہراتے ہیں ۔ پھر بھی خاموشی رہتی ہے وہی بچہ دوبارہ کھڑا ہو تا ہے ، حضور ﷺ پھر بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ اور تیسری مر تبہ اپنی بات دہراتے ہیں پھر بھی خاموشی ہی رہتی ہے تو پھر وہی بچہ کھڑا ہو تا ہے۔ تو حضورﷺ فر ماتے ہیں کہ علی تم آج کے بعد میرے وزیر ہو ؟ اب لوگوں کی خاموشی ٹو ٹتی ہے اور الٹا سیدھا بکنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ تم تو بہت بڑے جادو گر ہو ،کیا تمﷺ نے ہمیں یہ جا دو دکھانے کے لیئے بلایا تھا؟ پھر ابو لہب ، حضرت ابو طالب سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلے تو تمہارے بھتیجے نے ہم پر بر تری کا دعویٰ کیا تھا اور اب تمہا رے بیٹے کی بھی ہمیں تابعداری کر نا پڑے گی ؟ اور یہ کہہ کر بکتاجھکتا ہواچلا جاتا ہے اور اپنے ساتھ ، بقیہ اہل ِخاندان کو بھی لےجاتا ہے۔ اس لیئے کہیں کوئی ایمان نہ لے آئے۔ کیونکہ وہ دل میں اسے دین کی حقانیت سے واقف تھا،
اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ گھر ہو یا سفر ہر مو قعہ پر ساتھ نظر آتے ہیں حتیٰ کہ ایک دن حضور ﷺفر ماتے ہیں کہ علی میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر لیٹ جا ؤ کیونکہ میںﷺ ہجرت کر رہا ہوں اور باہر کفار گھر کاگھراؤ کر چکے ہیں اور وہ میرے قتل کے درپہ ہیں۔ تم کل ان کی امانتیں واپس کر کے میرے پاس آجانا، وہ تمہارا انشا اللہ کچھ نہیں بگاڑسکیں گے ۔ حضرت علی جو “سمعنا اور اطعنا “ کی چونکہ عملی تمثیل تھے ،وہ اس کے بعد کوئی سوال ہی نہیں کرتے ہیں اور چپ چاپ حضور ﷺ کے بستر ِمبارک پر محو استرا حت ہو جاتے ہیں ۔ بعد میں وہ اکثر فر ما یا کرتے تھے کہ “ مجھے اس دن سے زیادہ بہتر نیند پھر کبھی نہیں آئی “
مدینہ منورہ پہنچ کر بھی وہ ہر مر حلے پر ، ہر سرد اور خشک میں حضور ﷺ کے ساتھ نظرآتے ہیں ۔ ایک دن حضورﷺ مہاجر اور انصار میں بھائی چارہ کراتے ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہاتھ تھام کر فر ماتے ہیں یہ میرا بھا ئی ہے۔ اسکے بعد انہیں شرفِ دامادی عطاہو تا ہے وہ انکی ﷺچہیتی صاحبزادی حضرت فا طمہ الزہراءسلام اللہ علیہا کے شوہر بنتے ہیں ۔ تمام غزوات میں حصہ لیتے ہیں ۔ کافروں کے مشہور سورما عبد ود کو غزوہ خند ق میں قتل کر تے ہیں جو کہ ایک ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا ۔ پھر اس درِخیبر کو اوکھاڑ پھینکنے والا واقعہ رونما ہو تا ہے ۔ جبکہ اس پر پہلے کئی حملے ناکام ہوچکے تھے۔ اور یہودیوں کے خیال میں وہ قلعہ نا قابل تسخیر تھا۔ اس صورتِ حال میں حضور (ص)یہ مزدہ سناتے ہیں کہ کل میں پرچم اس کو دونگا جس کو اللہ اور رسول ﷺ سب سے زیادہ چاہتے ہیں ؟ لوگ رات بھر منتظر رہتے ہیں کہ دیکھئے وہ کون خوش نصیب ہے جس کو کل یہ اعزاز حاصل ہو تا ہے ؟صبح کوعلی کرم اللہ وجہہ کو طلب فر ماکر پرچم دربارِ رسالت سے انکوعطا فر مایا جاتا ہے ، جبکہ وہ آشوب ِ چشم میں مبتلا ہیں ، حضور ﷺ اپنے لعاب دہن سے مسیحائی فرماتے ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس دروازے کو تنہا اوکھاڑ پھنکتے ہیں جو مختلف روایات کے مطابق دس سے لیکر چالیس مجاہدین سے بھی بعد میں نہیں اٹھ سکا اور قلعہ فتح کر کے کا میاب اور کامراں واپس تشریف لاتے ہیں ۔
اور ہاں وہ واقعہ بھی جبکہ نجران کے عیسا ئیوں کا وفد آتا ہے اور ان سے آیت ِ مبا ہلہ کے نزول کے بعد حضور ﷺ سے یہ معاملہ طے پا تا ہے کہ وہ بھی کل اپنے بیٹی بیٹوں کو لے کر آئیں اور میںﷺ بھی کل اپنے بیٹی بیٹوں کو لیکر آتا ہوں؟ دوسرے دن جو اصحاب حجرے سے بر آمد ہوتے ہیں، ان میں آگے آگے حضور ﷺ تھے ، ان کے پیچھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فا طمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا اور حسن اور حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین تھے۔
اس کے بعد اب تاریخ میں یہ اندراج بھی ملا حظہ فر ما لیں جو کہ ہر طرح سے مستند ہے کہ جب سورہ توبہ کی وہ آیات جن میں کفار پر حج کرنے اور حدود ِ حرم میں رہائش اور داخلہ پر پابندی لگا ئی گئی ، توحضور ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس کا اعلان کر نے کے لیئے روانہ کیا جبکہ امیر حج کے طور پر وہ پہلے ہی حضرت ابو بکر ؓ کو روانہ فر ما چکے تھے۔صحابہ کرام ؓ نے مشورہ دیا کہ انہیں کسی قاصد کے ذریعہ مطلع فر مادیں ، وہ وہاں اعلان کر دیں گے ۔ مگر حضور ﷺ نے فر مایاکہ اس کام کے لیئے اہل ِ بیت میں سے ہی کوئی ہونابہتر ہے ۔
پھر وہ واقعہ جبکہ حضور ﷺ پہلی مرتبہ انکو اپنے پیچھے مدینہ میں اہل ِ بیت کی نگہداشت کے لیئے چھوڑ گئے، مگر ان کی حمیت نے گوارا نہیں کیا کہ حضور ﷺ کو تنہا خطرے کے وقت چھوڑ دیں جب کہ منافق سب بغلیں بجا رہے تھے کہ یہ یا تو شہید ہو جا ئیں گے یا رومن فو جیں گر فتار کر لیں گی ۔ بلکہ رئیس المنا فقین عبد اللہ بن ابی سلول کی تاج پوشی کی تیاری بھی شروع ہوچکی تھی ۔ ابھی حضورﷺ چند منزل ہی تشریف لے گئے تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پہونچ گئے۔ پوچھا کیسے آئے ؟انہوں نے حقیقتِ حال عرض کی فرمایا واپس جا ؤ! کیا تم نہیں چاہتے کہ مجھ میں اور تم میں وہی نسبت ہو جو حضرت مو سیٰ ؑ اور ہارون ؑ میں تھی۔
بظاہر اس ارشادِ رسالت ﷺ میں کوئی ایسی بات نہ تھی مگر اس کے جو مضمرات تھے وہ بابِ علم نے سمجھ لیئے کہ ان کو حضور ﷺ نے کونسا کام سونپا ہے اور انہیں اس سے عہدہ برآ ہو نا ہے ۔ وہ تھا دین کی اقامت اورحفاظت ۔ جس کو انہوں نے حضور ﷺ کے بعد اپنی ذمہ داری سمجھا اور بخوبی نبھا یا ۔ حتیٰ کہ جب کوئی خلافت لینے کو تیار نہیں تھا تو وہ بار بھی انہوں نے لوگوں کے مجبور کر نے پر اٹھایا۔ جب کے اس سے پہلے وہ ہمیشہ گریزاں رہے۔ کیونکہ یہ وہ مرحلہ تھا کہ پرانے صحابہ کرام ؓ یا تو اللہ کو پیارے ہو چکے تھے یا بوڑھے ہو کر اپنا اثر کھوچکے تھے۔ اور نومسلموں کو دورِ اولیٰ جیسی تربیت نہ ملنے کی وجہ سے وہ دولت کی کثرت کی بنا پر عجمی رنگ میں رنگ چکے تھے اور اخلاقی پستی کا شکار بھی ،ایسے میں انہوں نے اسوہ رسول ﷺکو دوبارہ زندہ کر نا چا ہا تاکہ اسلام کی نشاةِ ثانیہ ہو سکے جس پر وہ زندگی بھر عامل رہے۔ لیکن اب وقت بدل چکا تھا لہذالوگوں نے انہیں چین نہیں لینے دیا انہوں نے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا۔ مگر وہ اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں سے بہت ہی دلبرداشتہ ہوگئے اور انہیں کثرت سے حضور ﷺ کا وہ ارشادِ گرامی یاد آنے لگا۔ جس میں انہیں ، ان کی شہادت کی خبر یہ فرماکر دی گئی تھی “ تمہیں اس امت کاایک بدترین اور مردود شخص شہید کرے گا اور تمہارے سر کے خون سے تمہاری داڑھی تر ہو گی “ وہ بار بار فرماتے کہ وہ بد بخت ابھی تک پیدا کیوں نہیں ہو ا تاکہ میں اپنے رفیق ِاعلیٰ سے جا ملوں ۔ وہ شخص پیدا تو ہوچکا تھا مگر ابھی وقت نہیں آیا تھا۔ وہ وقت بھی انیس یا سترہ رمضان کو بہ اختلاف مورخین آگیا اور ایک ابن ِ ملجم نامی مردود نے اپنے چند دوسرے خارجیوں کے ساتھ ملکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قتل کی سازش کی جس میں ایک قطامہ نام کی عورت بھی شامل تھی ۔ ابن ِ ملجم نے اپنی زہریلی تلوار سے اس وقت ان پرحملہ کیا جب وہ فجر کی نماز کے لیئے باہر تشریف لائے ۔ اس مردود نے ان کے سرمیں ضربِ کاری لگا ئی ۔ حضرت علی کرم اللہ نے پنی جگہ جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب کو نماز فجر کی امامت کے لیئے کھڑا کیا اور پھر مسجد کے فر ش پر دراز ہو گئے ۔ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق ان کی ریش ِمبارک خون سے تر ہوچکی تھی لہذا انہوں نے جان لیا کہ ان کا آخری وقت آپہو نچا ہے۔ کاتب کو طلب کیا اور ایک بے مثال وصیت تحریر فر ما ئی جو کہ امت کے لیئے قیامت تک مشعل راہ رہے گی اور پھر اس عظیم مجاہد نے جس کی زندگی میدان جنگ میں گزری اپنی جا ن اکیس رمضان المبارک کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سپرد کر دی اور اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ہ

شائع کردہ از shaksiat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

ہے تجسس جو شمس نہ تھک بیٹھو

https://www.aalmiakhbar.com/archive/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=1094

ہے تجسس جو شمس نہ تھک بیٹھو

شائع کردہ از shaksiat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

رمضان خود کو بدلنے کا مہینہ ہے۔۔۔شمس جیلانی

جس ساعت میں یہ ملک بنا تھا وہ انتہائی مبارک رات تھی جس میں اس نے عمل کرنے کے لیے ہمیں قرآن شریف عطا فرمایا تھا یعنی وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی جسے شبِ قدر کہتے ہیں؟ اس وقت ہم میں نیکوں کا تناسب سو فیصد نہ سہی تو ننیانوے فیصد ضرور تھا؟اگرایسا نہ ہوتا تو نہ ہماری دعائیں قبول ہوتیں نہ ملک بنتا؟ اور یہ ایک دو دن کی دعاؤ ں کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ صدیوں کی دعاؤ کا نتیجہ تھا۔ تب کہیں جا کر یہ دن دیکھنا نصیب ہوا تھا۔ یہ اس کا کرم تھا؟ کہ مانگنے والوں کی عاجزی اور انکساری کی بنا پر اللہ سبحانہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور اس نے صدیوں کی محرومی کے بعددنیا کا سب سے بڑاملک عطا کر دیا؟ جبکہ ہم اک چھوٹا سا تکڑا مانگ رہے تھے، اس وعدے کے ساتھ کہ ہم وہاں تیرا نام بلند کریں گے؟ تیرے دین کو سر بلند کریں گے؟ جبکہ اسے معلوم تھا کہ کل کیا ہوگا؟اس قوم کے ساتھ بھی وہی ہواجو دوسری قوموں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ اپنے دورِ اقتدر میں پریشان تھے؟اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعا فرما یا کرتے تھے کہ“ اے اللہ ہمارے اور ایران کے درمیان آگ کے دریا حائل کردے تاکہ ان کی زرپرستی کااس امت پر سایہ نہ پڑے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے سادہ لوح بندے ان کے رنگ میں رنگ جا ئیں اور دولت آنے کے بعد سادگی چھوڑ کر کہیں انہیں جیسے نہ ہوجائیں جس کی اطلاع حضور(ص) دے چکے تھے کہ“ میں اسوقت سے ڈرتا ہوں جبکہ یہ زمین سونا اگلے گی“
مگر اس کا اپنا پلان تھا جوپورا ہونا تھا؟ اور اسے وہ وعدے پورے کرنا تھے جو اس نے اپنے نبی (ص) سے کیے تھے،اور ان وعدوں کی بنا پر نبی (ص)نے اپنے تابع فرمان لوگوں کوناامیدی کے دور میں بتا دیئے تھے؟ جیسے کہ خندق کی مٹی سے مختلف ممالک کی ا ُنہیں (ص) خوشبوئیں آنا، یا حضرت سراقہ ؓ کے ہاتھ میں کسریٰ کے کنگن پہنائے جانا؟ کیونکہ اس کی شان ہی یہ ہے کہ جب دینے پر آئے تو اپنی شایانِ شان ہی دیتا ہے؟
قصہ مختصر وہ ساری پیشنگو ئیاں ایک یک کر کے پوری ہونا تھیں جو پوری ہوئیں؟ چونکہ تقویٰ کا وہ معیار جو مومنوں میں حضور(ص)نے خوداختیار فرماکر اور اپنے صحابہ کرام ؓ سے عمل کرواکر دنیاکو دکھادیا تھا۔ جوکہ بعد میں نئے آنے والوں کی یلغار کے سامنے قائم نہیں رہ سکا؟ اور قوم ان ہی کی راہ پر گامزن ہوگئی؟ یہ ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے کہ ہم بہتر سال میں بجا ئے تقویٰ میں ترقی کرنے کہ وہاں پہنچ گئے کہ اب کہیں پتہ چلتا ہے کہ کوئی نیک اور صاحبِ تقویٰ ہے تو پورا ملک دوڑ پڑتا ہے کہ چلو دیکھیں تو سہی کہ صادق اور امین ہوتا کیسا ہے؟ آپ نے اندازہ کیا کہ ہم جب غلام تھے تو کتنے بلند تھے؟ اب جب آزاد ہیں تو کتنے پست ہوچکے ہیں؟جو بھی آتا ہے ہم اس سے بے حساب امیدیں باندھ لیتے ہیں؟ مگر یہ مشہور کہاوت بھول جا تے ہیں کہ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا؟ نتیجہ یہ ہے کہ مایوسی پہ مایوسی ہوتی ہے جوکہ ہمارا مقدر ہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک من حیثیت القوم ہم خود کو درست نہ کر لیں؟ اس کے لیے ہمیں خود احتسابی اختیار کرنا ہو گی۔ تب ہم اس قابل ہوسکیں گے ہم اپنا تجزیہ خود کرسکیں؟ اس صورت میں ہمیں معلوم ہوجا ئے گا کہ ہم میں خامیاں کیا ہیں اور اب ہم ہیں کیا؟ کیونکہ ہم گمان تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہیں مگر کام سارے وہ کررہے ہیں جو ناپسندیدہ بندے کیا کرتے ہیں؟ حل یہ ہے کہ اس ا نا کو اپنے اندر سے کھرچ کھرچ کے نکالنا ہوگا تاکہ ہم دوبارہ پسندیدہ بندوں میں شمار ہونے لگیں؟ اس کی پہلی منزل ا جتماعی توبہ ہے؟
اس لیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ “ کوئی بندہ میری طرف بڑھے تو اس کا راستہ آسان کردیتا ہوں “ لہذا وہ آسانیا ں پیدا کردے گا اور آپ کے دن پھیر دے گا۔ رمضان شریف میں آپ چند دن کے بعد داخل ہونے والے ہیں، یہ بہترین موقع ہے شاید پھر کبھی نہ ملے کہ اس وقت آپ کے پاس ایک ایسا لیڈر ہے جو اور کچھ کرے یا نہ کرے ایماندار تو ہے۔اگر یہ موقع بھی کھودیا؟ تو آپ ہمیشہ کی طرح ایسے لیڈروں کو بھی ترسیں گے کیونکہ وہ اکیلا کیا کریگا؟جبکہ اس کے ہاتھ پاؤں وہی ہیں جوا سے وراثت میں ملے ہیں۔اس کے بغیر کوئی تبدیلی آجا ئے یہ سوچنا بھی احمقانہ بات ہے؟ کیونکہ اللہ کی شرط یہ ہے کہ“میں اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہیں بدلتی“ اور یہ بھی فرما دیا کہ میں اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں کرتا؟۔آپ کے لیے آئی ا یم ایف کی سیکڑوں شرائط ماننے کے بجا ئے جس میں یہ بات یقینی بھی نہیں ہے کہ اپ کامیاب رہیں گے؟ بہتر یہ ہے کہ اللہ کی بات مان لیجئے جو اپنے وعدے پورے کرنے پر قادر ہے وہ سارے دکھ دلدر اکیلے ہی دورفرما دیگا۔ کیونکہ آپ کے ساتھ پورے رمضان کی برکتیں بھی ہونگی ستا ئیسویں شب کی برکتیں بھی اور عید کے انعام کے طور پر وہ آپ کو جنت کا حقدار بھی بنا دے گا۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں؟ صرف میری بات مان لیا کرو؟ میں اپنی یہ درخواست قوم کی خدمت میں بہادر شاہ ظفر کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ
ع ظفرآدمی اس کو نہ جانئے گا وہ کیسا ہی ہو صاحبِ فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

شائع کردہ از tareekh | تبصرہ کریں

شہادت حضرت علی علیہ السلام۔۔۔۔ شمس جیلانی

شہادت حضرت علی علیہ السلام۔۔۔۔ شمس جیلانی
حج کے موقعہ پرتین خارجیوں نے تین حضرات کے قتل کی سازش کی جن میں حضرت علی (ع) سرِ فہرست  تھے  پھران کا قاتل کوفہ پہو نچ گیا جہاں اس کو ایک خارجی عورت بشکل بیوی مل گئی اور اس کے ذریعہ سے اس کا ایک رشتہ دار وردان نامی مل گیا۔ جبکہ ایک دوسرا شخص ابن ِ ملجم کا دوست بن گیا اور اس سازش میں وہ بھی شامل ہو گیا۔ سازش کی تکمیل کے لیئے 17رمضان المبارک کی تاریخ  بد بختوں چونکہ پہلے سے مقرر کر رکھی تھی لہذا وہ تا ریخ آنے کا انتظار کر نے لگے؟  چونکہ  یہ حدیث ہے کہ “ ہر کام کے لیئے ایک وقت معین ہے اور ہر وقت کے لیئے ایک کام “ لہذا اس منصوبے کے لیئے بھی  تاریخ17رمضان اور وقتَ نماز فجر ازل سے مقرر ہوچکی تھی۔
جبکہ یہ وہ دور تھا کہ حضرت علی  (ع) با لکل دلبرداشتہ ہو چکے تھے اور انہوں (ع) نے ایک محفل میں ذکر فر مایا بھی تھا کہ میں ایسے ایسے شہید کیا جا ؤ نگا تو ان میں سے بہت سے لو گ طیش میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہم ایسا کر نے والے کے پو رے خاندان کو نیست و نابود کر دیں گے؟ مگر حضرت علی  (ع) نے اپنی قسم دیکر فر مایا کہ ایسا ہر گز نہ کر نا کہ تم کسی بے گناہ کو میرے لیئے قتل کرو؟ کیونکہ ان کے سامنے حضرت عمر (رض) کی مثال تھی جس میں ان کے صا حبزادے عبید اللہ نے ہر مز اور حضرت عمر(رض) کے قاتل کی بیٹی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ جس پر وہ انہیں (رض) کے دور میں گرفتار بھی کر لیئے گئے تھے۔مگر بعد میں حضرت علی (ع) کی رائے کی مخالفت کر تے ہو ئے ۔ قاتل کے ورثہ کو مال دیکر حضرت عثمان (رض) نے را ضی کر لیا اور ان کو رہا کر دیا ۔ لیکن جب حضرت علی (رض) خلیفہ بنے تو پھر اس خوف سے کہ حضرت علی (رض)ان پر حد دوبارہ جاری کردیں گے کہ ہر مز کا معاملہ ابھی تک باقی تھا وہ فرار ہو کر شام  میں معاویہ کے پاس شام  چلے گئےاور ان کی طرف سے جنگ صفوان میں شریک بھی ہوئے ۔
مگر  یہاں معاملہ دوسرا تھاکہ حضرت علی کو اپنا قاتل اور پوری تفصیل معلوم تھی جس کی اطلا ع ان کو حضور (ع) نے پہلے ہی دیدی تھی مگر تا ریخ  سے ثابت ہےکہ حضرت عمر (رض)اپنی شہادت کے بارے میں با خبر نہیں تھے ۔ اگر ہو تے تو وہ  شہادت کےوقت یہ نہ فر ماتے کہ“ الحمد للہ میرا قاتل مسلمان نہیں ہے۔  اور نہ ہی وہ کوئی پشگی وصیت  کر سکے۔
چونکہ حضرت علی  (ع) یہ نہیں چاہتے تھے کہ تا ریخ پھر اپنے آپ کو دہرائے اور کوئی ان کی وجہ سے نا حق قتل ہو۔ اس لیئے انہوں نے (ع) اپنے جانثاروں کو اپنی قسم دی ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ جب آپ کو پتہ ہے کہ آپکا وقت ِ شہادت قریب آگیا ہے تو کیا آپ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نہیں مقرر فر ما ئیں گے ، تب اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ تو آپ نے فر مایاکہ “ میں عرض کرونگا کہ اے اللہ !تو نے مجھے اپنی مر ضی کے مطابق ان میں خلیفہ مقرر کیا تھا، پھر تو نے مجھے موت دیدی۔ اور میں  نےان کو تیرے حوالے کیا کہ چا ہے تو ان کی اصلاح فر ما اور خواہ ان کو گمرا ہ کر۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت جندب بن عبد اللہ (رح) نے پوچھا کہ کہ پھر ہم حضرت حسن (ع) کو خلیفہ مقرر فر ما دیں تو حضرت علی (ع) نے فر مایا کہ “ نہ میں تمہیں روکتا ہوں نہ اس کا حکم دیتا ہوں “ کیونکہ وہ اس پر بھی با خبر تھے کہ حضرت حسن (ع) کو خلیفہ ہو نا ہے اور حضور (ص) کے ارشاد کے مطابق دو گروہ میں انہیں صلح بھی کرانا ہے۔
جب وقت ِ معین آپہو نچا اور یہ تینو ں ۔ ابن ملجم ، وردان اورشبیب ۔ اس دروازے کے سامنے گھات میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ جس سے کے حضرت علی (ع) باہر تشریف لا یا کر تے تھے۔ وہ (ع) لو گوں کو نماز کے لیئے بلند آواز سے پکارتے ہو ئے چلے اور منبر کا رخ کیا سب سے پہلے شبیب نے وار کیا جو کارگر نہ ہوا کہ حضرت علی(ع) جھکائی دے گئے اور اس کی تلوار مسجد کے طاقچہ میں لگی۔ اس کو ناکام ہو تا دیکھ کر بے خبری میں دوسرے طرف سے ابن ِ ملجم نے جو کمبل اوڑے لیٹا تھا اٹھ کر وار کیا جو ان  (ع)کے سر پر لگا اور خون بہتا ہوا ان (ع) کی ریش مبارک تک آگیا ۔ وردان بھاگ کھڑا ہو ا جبکہ بھا گتے ہو ئے ایک حضرت موت کے رہنے والے شخص نے  اسےقتل کر دیا، شبیب بھاگنے میں کامیاب ہو گیا، اور ابن ِ ملجم کو گرفتار کر لیا گیا ۔
حضرت علی (ع)  نے جعدہ بن ہبیرہ  (رح)کو اپنی جگہ امامت کے لیئے کھڑا کیا،اور وہ خود زمین پر لیٹ گئے ۔بعد میں حا ضرین ان  (ع)کو اٹھا کر ان  (ع)کے گھر لے گئے۔ اور ابن ملجم کو ان (ع)کے سامنے پیش کیا۔ اس موقعہ پران (ع) کے اور قاتل کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ حضرت علی(ع) نے کسی موقعہ پر اس پر احسان بھی کیا تھا۔ جو انہوں (ع) دیکھتے ہی فر مایا کہ “ کیا میں نے تیرے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا تھا“ اس نے کہا بے شک کیا تھا؟ مگر اس نے وجہ قتل کے طور پر خوارج کا عقیدہ دہرایااور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یہ تلوار زہر پلا ئی ہو ئی ہے جس سے میں نے وار کیا ہے لہذا اب آپ (ع) جانبر نہیں ہو سکیں گے ۔حضرت علی کرم اللہ (ع) نے فرمایا کے اسے قید رکھو اگر میں (ع) زندہ رہا تو میں (ع) جانوں کہ میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرونگا ؟ اگر میں (ع) مر گیا تو پھر تم اسے قتل کر دینا۔
حضرت علی  (ع)کی حالت روز بروز خراب ہو تی گئی۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان کا وقت قریب آپہو نچا ہے تو انہوں نے اپنے کا تب کو طلب فر مایا پہلے حضرات حسنیں (ّع) اور حضرت محمد (ع) بن الحنیفہ کو اللہ کا تقویٰ اختیار کر نے نماز پڑھنے، زکاة دینے غصہ پینے صلہ  رحمی کرنے اور نیکی کا اور فواحش سے بچنے کے حکم دینے  کی وصیت فر مائی ۔ نیز یہ بھی وصیت فر مائی کہ تینوں (ع) بھائی آپس میں مل کر رہیں اور باہمی مشورے سے کام کریں۔ پھر اس کے بعد ایک طویل وصیت تحریر کروائی  جو انتہا ئی رو ح پر ور ہے۔
پھر اسی  کو ضابطہ تحریر میں لانے کے لیئے کاتب کو طلب فر مایا۔ کیونکہ ان (ع) کے سامنے وہ سابقہ تجربہ تھا جو کہ وہ  (ع)دہرانا نہیں چا ہتے تھے، جوحضور(ص) کو آخری وقت پیش آیاکہ جب حضور (ص) نے اپنی آخری وصیت لکھوانا چا ہی اور فرمایا کہ “ میں تم میں ایسی ہدایات نہ چھوڑ جا ؤ ں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو  “ تو کچھ لوگوں نے مخالفت کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک امت یہ سوچتی رہتی ہے کہ خدا جانے وہ کیا لکھوانا چا ہتے تھے ۔ جس سے امت محروم رہ گئی ۔لہذا جب کاتب آگیا تو حضرت علی  (ع) نے حا ضریں کے سامنے اس کو املا کرانا شروع فر ما یاجس کی تفصیل ہم آگے درج کر رہے ہیں ۔ مگر اس سے پہلے ایک خلا صہ پیش کر رہے ہیں تاکہ قارئین کی کچھ رہنما ئی ہو سکے۔
یہ وصیت اللہ کی حمدو ثنا اور رسول (ص) پر شہادت سے شروع ہوتی ہے۔ پھر قرآن کی وہ مشہور آیت ہے کہ اللہ اپنے دین کو سب دینوں پر غالب کر کے رہے گا چا ہے کافروں کو کتنا ہی گراں گزرے۔ اس کے بعد دوسری مشہور آیت ہے کہ جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) کو حکم دیا تھا جس کا مفہوم یہ ہے۔کہ کفار سے کہدو کہ میرا (ص) مر نا میرا جینا سب اللہ کے لیئے ہے اور میں اول مسلمان ہوں۔ اس کے بعد اپنی صلبی اولاد اور پھر رو حانی اولاد یعنی امت کو مخاطب فرمایاہے ۔ اس کے بعد وہ پند اور نصا ئح ہیں جو اسلام کی جان ہیں ۔ اس میں پہلی بات تو اتحاد ِ ملت ہے۔ پھر اس کے بعداس میں خاص بات یہ ہے کہ ہم جو آجکل رسمی عبادت کو ہی اسلام سمجھتے ہیں ؟ اس عقیدے کی انہوں (ع) نے یہ فر ماکر تردید فرمائی ہے کہ میں (ع)  نےحضور (ص) کو فرماتے سنا ہے کہ رسمی نماز اور روزے کے مقابلہ میں حقوق العباد (لوگوں کے ساتھ معاملات )زیادہ اہم ہیں اور پھر اپنے عزیزوں کے ساتھ بر تا ؤ اور یتیموں سے ہوتے ہو، علامتی طور پر غیروں کے لیئے پڑوسیوں کے حقوق لائے ہیں اور اس کے بعد واپس قر آن پر آگئے اور اس پر عمل کی تلقین فرماتے ہو ئے ،قرآن نے جس فعل کو جہاں رکھا وہی تر تیب یہاں بھی موجود ہے۔ غرضیکہ اس میں سب ہی کچھ ہے ! کمزوروں کے حقوق ہیں پھرجو خاندان کی بنیاد ہے یعنی بیوی اس کے لیئے بھی ضروری ہدایات ہیں۔ صلا رحمی کی تلقین ہے، قطع رحمی سے منع فرمایا ہے اور آخر میں اللہ کے ساتھ  اہلِبیت کو رسول (ص) کی نگہبانی میں دیا۔ جبکہ نماز کا ذکر دوبار ہے۔ یہ بھی سہوا “ نہیں ہے کہ بعض قرآنی سورتوں میں نماز کا ذکر تا کیدا ً دوبار  آیاہے۔ میں اس تفصیل میں دو وجو ہات کی بنا پر گیا ہے ہوں کہ ہمارے ہاں یہ خیال  عام ہے کہ آخری وقت میں حواس درست نہیں رہتے لہذا وصیت بے معنی ہے ؟ مگر مجھے اس تفصیل سے یہ ثابت کر نا تھا کہ اہل اللہ یعنی اللہ کے ولیوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ دوسرا ہو تا ہے۔ وہ(ع) ولیوں کے سردار اٹھارہ سلسلو ں  کےبانی بانی بننے اور رہنمائی کرنے والے تھے۔ اس تبصرے کے بعد اب میں اصل وصیت پیش کر نے کا شرف حا صل کر رہا ہوں۔
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم ہ
یہ وصیت علی بن ابی طالب (ع) نے کی ہے۔ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ، وہ واحد اورلا شریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول (ص) ہیں ، اس نے انہیں ہدا یت اور دین ِ حق کے ساتھ بھیجاتاکہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کرے خواہ وہ مشرکین نا پسند ہی کریں، بلا شبہ میری نماز میری قر بانیاں، میرا جینا ،میرا مر نا اللہ رب العالمین کے لیئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ ہی مجھے حکم دیا گیا اور میں اول مسلمین ہوں۔اے حسن (ع) اے میرے تمام بیٹوں ! (ع) اور جس تک میری یہ تحریر پہونچے میں (ع) تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کر نے کی وصیت کر تا ہو ں،جو تمہارا رب ہے اور تم فرمانبرداری کی حالت میں ہی مرنااور سب اللہ کی رسی کو تھام لو پرا گندہ مت ہو تا۔ میں نے حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ماتے سنا ہے کہ بلا شبہ آپس کے تعلقات کی اصلاح عام نماز اور روزے سے افضل ہے۔۔۔اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھوِ اللہ تم پر حساب آسان کر دے گااور یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرواور انکے مو نہوں کو ہلاک نہ کرو اور نہ ان کے مال تمہاری موجودگی میں ضا ئع ہو ں،اور اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بلا شبہ وہ تمہا رے نبی ا(ص) کی وصیت ہیں آپ ہمیشہ ان کے متعلق وصیت فرما تے رہے، حتیٰ کے ہم کو خیال گزرا کہ آپ ان کو عنقریب وارث قرار دیدیں گے ،اور قر آن کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور کوئی دوسرا (اس پر)عمل کر نے میں تم سے سبقت نہ کرے ،اور نماز کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، وہ تمہارے دین کا ستون ہے اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، جب تک تم زندہ ہو وہ تم سے خالی نہ ہو،اور اگر اسے چھوڑ دیا گیاتو تم ایک دوسرے کو نہ دیکھو گے، اور رمضان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو،بلا شبہ اس کے روزے دوزخ کے مقابلہ میں ڈھال ہیں اور مالوں اور اپنی جانوںکے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کر نے کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو اور زکاة کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو ، بلا شبہ وہ اللہ کے غضب کو ٹھندا کرتی ہے اور اپنے نبی (ص) کی امان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور آپس میں ظلم مت کرواوراپنے نبی (ص) کے اصحاب کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، بلا شبہ رسول اللہ (ص) نے ان (رض)کے بارے میں وصیت کی ہے اور فقرا ءاور مسا کین کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرواور انہیں اپنے معاش میں شریک کرو، اور اپنے غلاموں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈروبلا شبہ رسول اللہ (ص) نے جو آخری بات فر مائی وہ یہ تھی کہ ً میں تم کو دو کمزوروں یعنی تمہاری بیویوں اور غلاموں کے بارے میں وصیت کر تا ہوں، نماز کا خیال رکھواور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے خوفزدہ نہ ہونا، جو تمہارا قصد کریگا اور تمہارے خلاف بغاوت کر یگا وہ تمہیں اس کے مقابلہ میں کفا یت کر ے گا اور جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ، لوگوں سے اچھی با تیں کرو، اور امر با لمعروف اور نہی عن المنکر ( یعنی اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے منع کرنے کا عمل) ترک نہ کرو، ورنہ وہ تمہارے برے آدمیوں کو حکومت دیدے گا،پھر تم دعا کرو گے اور وہ قبو ل نہ ہو گی، تم پر ایک دوسرے پر خرچ کرنااور ایک دوسرے سے تعلق رکھنالازم ہے، اور ایک دوسرے کو پیٹ دکھانے اور دوسرے سے تعلقات منقطع کرنے اور پرا گندہ ہو نے سے بچو،اور نیکی اور تقویٰ کے کا موں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو،اور اللہ سے ڈرو، بلا شبہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے، اہل ِ بیت ، اللہ تمہارامحافظ ہو اور تمہارا نبی (ص) تمہارا نگہبان ہو، میں تمہیں اللہ کے سپرد کر تا ہوں اور میں تمہیں اسلام علیکم ورحمةاللہ کہتا ہوں ۔  (نوٹ۔ یہاں وہ ذمہ داری جو الِ بیت کی حضور (ص) نے انکے سسپرد کی تھی وہ حضور (ص) کو لوٹادی)
اس کے بعد آپ لا الہ اللہ کا ورد فر ماتے رہے ،پھر کچھ نہیں  فرمایاحتی ٰ کہ 21رمضان 40  ھ کو آپ (ع) نے دا عی اجل کو لبیک کہا۔اناللہ و انا الیہ راجعون ہ  ان کے صاحبزادے  امام حسن (ع) اورامام حسین (ع)اور بھتیجے عبد اللہ بن جعفر (ع) نے مل کر غسل دیا۔ اور حضرت امام حسن (ع)  نےنماز جنازہ نو تکبیروں کے ساتھ پڑھائی اور اس میں تمام اہل ِ بیت نے شرکت کی۔

 

شائع کردہ از سیرت | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

وہ (ص)نبیوں میں رحمت لقب پا نے وا لا ۔۔۔شمس جیلانی

۔ گذشتہ ہفتہ ہم نے حضور (ص)سیرت مبارکہ ختم کی ہے ، جس میں کہ سر کا رِ دو عا لم محمد مصطفٰی (ص)کی ولادت با سعا دت ہو ئی اس ماہ مبارک کو منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ کہ ا ن کے نقشِ قدم پر چل کر نجات پالی جائے اور عمل انکی(ص) سیرت کے ہر پہلو پر کرنا ہوگا۔ مگر میں زیادہ اجاگر اس پہلو کو کرنا چاہوں گا جسے خدمت خلق کہتے ہیں اور جس میں ہم سب سے پیچھے ہیں ۔ جبکہ ان کے با رے میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ شا ید ہی کسی اور کے با رے میں تاریخ عالم میں لکھا گیا ہو۔ جو آپ ہر سا ل رو ایتی مضا مین میں پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن جب کو ئی شخصیت ہمہ صفت ہوتو اس کا کو ئی نہ کو ئی پہلو وہ اہمیت حاصل نہیں کر پا تا اور نگا ہو ں سے اوجھل رہ جا تا ہے۔ جوبعض اوقات اس کی سب سے اہم خصو صیت ہو تی ہے ۔یہ ہی معا ملہ آقا ئے نا مدا ر(ص) کے با رے میں ہے کہ وہ ایک کا مل شخصیت تھے ۔ لہذا لو گو ں نے انہیں بطو ر نبی(ص) پیش کیا، بطو ر بہترین سپائی پیش  کمانڈر پیش کیا، بہترین منتظم پیش کیا ، منصف وغیرہ وغیرہ پیش کیا۔ مگر کسی بھی اسکا لر نے ان(ص) کے اس وصف پر زیا دہ روشنی ڈا لنے کی کوشش نہیں کی جو اس دور میں اور ان کی شخصیت میں نا در الو جو د تھا۔ اوران (ص) کے خا لق کی نگا ہ میں سب سے زیا دہ اہم بھی۔ وہ تھیں دو صفا ت جو قدرتی طو ر پر ہمیشہ ایک دو سری سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں اور“ خلقِ عظیم اور رحمت“ یعنی بہ الفا طِ دیگر ایک انتہا ئی اچھا اخلا ق اور کر یما نہ طبیعت جو خالق کی نگا ہ میں سب سے ا ہم تھی ۔جس نے بے حسا ب مخلو ق تخلیق کی اور ان سب میں سے ایک (ص) کا مل انسا ن پیدا کیا جس پر تما م اکملیت ختم کر دی اور اس میں سے اس کے نز دیک سب سے زیا دہ جو چیز اہم تھی وہ اس نے چن لی جو کہ رحمت تھی اور حضو ر(ص) کی اکملیت کے حسا ب سے وہ بھی انہیں بہ د رجہ اتم عطا فر ما ئی ۔
لیکن حضورکا دور، وہ دو ر تھا جس میں حکمرانو ں کی عظمت دو سری چیزو ں کی بنا پر ما نی جا تی تھی۔ وہ تا ریخ نویسوں نے حضو ر(ص)میں پا ئیں اورچن لیں اور جو جمع کنند گان کے خیال میں ا ہم تھیں اور اس وقت تک لو گو ں کے سینو ں میں محفو ظ رہ گئیں تھیں، ان کو محفو ظ کرلیا گیا ۔کیو نکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ ایک دو ر ایسا بھی آئے گا۔ جس میں سیرت کے اِس حصہ کا کھو ج لگا نا ہو گا جس کو خدمتِ خلق ،ایثار اور قربا نی کہتے ہیں اور اس کو ایک وقت میں وقت کے لحا ظ سے سب سے زیا دہ اہمیت دی جا ئے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضو ر (ص) کے چا لیس سا لہ کا رنا مے جو کہ لا کھو ں کی تعداد میں ہو نا چا ہیئے تھے ،کیو نکہ انکا(ص) پہلا چا لیس سالہ دور انہیں پر مشتمل تھا، ان میں سے چند کے سوا کچھ درج نہیں ہے۔ کیو نکہ اس دور میں نہ کا غذ تھا نہ قلم اور نہ خوا ندہ لو گ۔ وہ یا دا شتیں بھی اسی طرح سینو ں میں تھیں جس طر ح دوسرے کا ر نامے، مگر جمع نہ کر نے کے با عث جا نے والوں کے سا تھ وہ بھی چلی گئیں ۔ اور ان کا اب چو دہ سو سا ل کے بعد سرا غ لگا نا نا ممکن ہے ۔ جبکہ بعد میں بھی جیسی جیسی ضرورت ہو تی گئی اس پر لو گ حضو ر(ص)کے دنیا سے پر دہ کر نے کے بعدمتو جہ ہو تے گئے۔ مثلاً ارکا ن اسلام اور روزمرہ کا کا رو با ر چلا نے کے لیئے احا دیث اورسنت کی ضرورت پڑی، اور لو گو ں نے محسو س کیاکہ صحابہؓ کرام انتقال فرماتے جا رہے ہیں اور وہ بھی سا تھ میں دفن ہو رہی ہیں ۔تو ان کو اکھٹا کر نا شروع کیا اور ایک ایک حد یث کے لیئے میلو ں کاسفر کیا ؟مگر سیرت کے اس حصہ کی اس وقت کو ئی خا ص ضرورت محسو س نہیں کی گئی۔ لہذا کسی نے ان کو محفوظ بھی نہیں کیا اور اب جبکہ دنیاہر چیز کاثبو ت ما نگتی ہے۔ جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک منٹ سے کم عرصہ میں دنیا کے اس کو نے سے اس کو نے تک پہو نچ جا تا ہے۔ اگر سیرت کے کسی طا لب علم سے یہ سوا ل پو چھ لیاجا ئے کہ حضور(ص)کورحمت اللعالمین کیو ں کہا جاتا ہے؟ تو وہ بغلیں جھا نکتا نظر آئے گا ۔ اللہ تعا لیٰ مو لا نا حا لی ؒ کی قبر کو منو ر فر ما ئے کہ انہو ں نے سب سے پہلے مسدس ؔ حا لی میں یہ اشعارکہہ کر حضور(ص)کا بڑا خو بصو ر ت تعا رف پیش کیا ہے ؂وہ نبیوؑ ں میں رحمت ؐلقب پا نے وا لا وہ اپنے پرا ئیوں کے کا م آنیوالا ۔ حرا سے اتر کر سو ئے قوم آیا اوراک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا “ ان ا شعار میں جو واقعا ت جس طر ح رو نما ہو ئے اسی تر تیب سے مو لا نا نے پیش کیئے ہیں ۔ یعنی سب سے پہلے خدمتِ خلق رحمت ،شفقت اور مروت دیا نت وغیرہ جو چا لیس سا ل تک حضور(ص)کا طر ہ امتیا ز تھی۔ یعنی غلا مو ں کے حما یتی بو ڑھو ں کے مدد گا ر اور مظلو مو ں کی داد رسی ان کا شیوہ تھا۔ جس کا اظہار ام المونین حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے پہلی نزول وحی پر حضور( ص) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ،جس کے لیئے قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہً اس کا عا مل کبھی فنا نہیں ہو گا “ اورحضور(ص) نے امت کوتلقین فر ما ئی کہ خد مت کرو ،خدمت کرو ، خدمت کرو ۔ اور “ایک حدیث میں فر ما دیا کہ وہ انسا ن ہی نہیں جو انسا نو ں کے کام نہ آئے “ چو نکہ ابتدائی دور میں حضور(ص)کے پا س سوا ئے خد مت خلق اور حقوق العباد کے کو ئی اور ذمہ دا ری نہیں تھی، لہذا یا تو وہ لو گو ں کی خد مت میں وقت گزا رتے تھے یا پھر عبا دت میں ۔ ان میں سے تھو ڑی سی مثا لیں اگر کسی کامطا لعہ وسیع ہے تو کہیں کہیں سیرت کی کتا بو ں میں بکھری ہو ئی ملیں گی، لیکن افرا ط سے اس لیئے نہیں ہیں کہ جیسا ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس کی طرف تو جہ نہیں دی گئی۔کیونکہ سیرت نگا روں کے نز دیک وہ حصہ زیا دہ اہم تھا جو نبوت (ص) پر مبعو ث ہو نے کے بعد کے دو ر پر مشتمل ہے ۔ اس سے پہلے کے واقعا ت اگر کہیں نظر بھی آئیں ۔ تو عا م قا ری یو نہیں پڑھ کر گزر جاتا ہے ۔کیو نکہ اس کے لیئے کو ئی علیٰحدہ با ب مو جو د نہیں ۔ مگر آج کے دو ر میں ان ہی کی سب سے زیا دہ ضرو رت ہے کیو نکہ یہ دو ر خدمتِ خلق کا دور ہے جس میں مسلم امہ سب سے پیچھے ہے۔اور جس کی ابتدا حضو ر(ص) سے ہو ئی تھی جو کہ ان کی اور صفا ت کی طر ح ان (ص)میں اکملیت کے در جہ پر پہو نچی ہو ئی تھی ۔ ہما ری صو رت حا ل یہ ہے کہ یہ کسی بھی مسلما ن سے پو چھیں کہ وہ کیا تھے تو فخر سے کہے گا کہ وہ رحمت اللعا لمین تھے،مگر وہ خصو صیا ت کیا تھیں جن کی بنا پر وہ رحمت اللعا لمین کہلا ئے اور خو د ان (ص)کے خا لق نے ان کو رحمت اللعا لمین فر ما یا۔اس پر بڑے سے بڑا عا لم چند مثا لو ں کے بعد مجبوراًخا مو ش ہو جا ئے گا؟
جبکہ غیر مسلم حضو ر(ص) کے زما نے سے لے کر آج تک وہ تمام چیزیں جمع کر تے آئے ہیں۔ جو گمرا ہ کن اور جھو ٹ کا پلندہ ہیں۔ تاکہ حضور(ص)کے اوصاف حمیدہ کے خلا ف کسی طر ح کچھ بھی ثا بت کیا جا سکے اور ہم اس کے جو اب کے لیئے آج دلا ئل سے مسلح نہیں ہیں لہذا، بعض اوقا ت ہم جھنجھلا ہٹ کا مظا ہرہ کرتے ہیں اور ڈنڈے سے کام لیتے ہیں۔جو کہ قطئی غلط رویہ ہے اس لیئے کہ دلا ئل کا جو اب دلا ئل سے آج کی دنیا میں پسند کیا جا تا ہے ۔لہذا ہما رے پا س جو بھی بچا ہواسر ما یہ مو جو د ہے اس کو یک جا کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر مزید تحقیق کی بھی ۔تو جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں حضور(ص) نے چا لیس سا ل تک صرف اور صرف خد متِ خلق کی ۔یہ ہی وجہ تھی کہ تما م پسما ند ہ لو گ ان کے ہم نوا بن گئے ۔ کیونکہ وہ غلا مو ں کی حما یت کر تے ،بو ڑھو ں کا بو جھ ڈھو تے، لو گو ں کے ما ل کی حفا ظت کر تے لہذا لو گ ان کی دیا نت کی وجہ سے اما نتیں ان کے پا س رکھتے ۔اور اس کے لیئے جس چیز کی ضرو ر ت ہو تی ہے وہ بھی پر ور دگا ر نے ان (ص) کو بد رجہ اکملیت عطا کی تھی وہ تھا جذ بہ ایثا ر ۔اس کا پہلا مظا ہر ہ جو ہمیں پیدا ئش کے فو راً بعد نظر آتا ہے وہ یہ تھا کہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئیؓ کو اپنے اوپر تر جیح ،ما ئی حلیمہؓ فر ما تی ہیں کہ میں اگر انہیں دو دھ پلا نا بھی چا ہتی وہ اس وقت تک نہ پیتے جب تک میرا بیٹا نہ پی لیتا اور صرف ایک پستان سے پیتے، یہ اس اکملیت کا پہلا ثبوت تھا ۔جو نظر آتا ہے ۔اس کے بعد بڑے ہو ئے تو ما ئی حلیمہؓ کو کبھی انہو ں(ص) نے تنگ نہیں کیا نہ ضد کی نہ شرا رتیں بلکہ کو شش کر تے کہ ان کا ہا تھ بٹا ئیں۔ اس کے بعد وہ دو ر آیا کہ وہ گھر سے با ہر تشر یف لے جا نے لگے، گو کہ یہ ان کی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ کا م کر یں ،مگر وہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئی بہنو ں کا ریو ڑ چرا نے میں ہا تھ بٹا تے ۔اس کے بعد وہ مکہ آگئے ۔ اور یہا ں غلا مو ں کے سا تھ ظلم دیکھا ،ان کی وہ (ص)جو بھی مدد کر سکتے تھے کر نے لگے ۔
جب جو انی کو پہو نچے تو انہو ں (ص)نے پو رے معا شرے کو بر ائی میں ملو ث پا یا ۔لہذا انہو ں نے ایک کمیٹی بنا نے پر سردا روں کو را ضی کر لیا اور وہ (ص) اس کے ذریعہ پسا ند ہ اور مظلو مو ں کو امدا د فرا ہم کر نے لگے ۔چونکہ وہ (ص)اس میں سب سے زیادہ فعال تھے ، یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہا حا لانکہ وہ  ان کے(ص)نبو ت کا دعویٰ کر نے کی وجہ سے قریش سب کے سب دشمن بن چکے تھے ۔اس دو ر میں بھی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے جس کو لو گو ں نے اور طر ح پیش کیا ہے؟ وہ یہ تھا کہ ابو جہل نے ایک بدو سے اونٹ خریدا اور پھر نا دہند ہ ہو گیا کسی نے حضو ر(ص)کی طر ف اشا رہ کر کے کہا ان (ص) کے پا س چلے جا ؤ وہ (ص) دلوا دینگے۔ وہ حضو ر(ص) کے پا س آیا ، درخواست کی ،آپ (ص)فوراً اس کے سا تھ چلد دیئے اور جیسے ہی اس نے حضو ر(ص)کے ہمرا ہ اسے دیکھا ابو جہل نے فو راً اس کو رقم لا کر دیدی ۔اس آدمی کا کہنا اور حضو ر (ص)کا جا نا اسی معا ہدہ کے تحت تھا ۔لیکن جن کو اس معا ہدے کا علم ہی نہیں ہے وہ دوسری تو ضیحات پیش کرتے ہیں کہ ً کسی نے مذاق میں کہا تھا “ اب آگے دیکھتے ہیں کہ ایک ضعیفہ مکہ چھو ڑ کر جا رہی حضور(ص) اس کا سا مان اٹھا لیتے ہیں۔ اور اس کو کارواں تک پہو نچا دیتے ہیں۔حضو ر  (ص)اس سے پو چھتے ہیں کہ اِس ضعیفی میں وجہ سفر کیا ہے؟ تووہ کہتی ہے، بیٹا !میں اپنا ایما ن بچا کر لے جا رہی ہو ں ۔یہا ں ایک شخص ہے محمد (ص)نام کا ، وہ(ص) بڑاہی جا دو گر ہے ایسا الفا ظ کا جا دو چلا تا ہے کہ لو گ اس (ص)کے مطیع ہو جا تے ہیں، تم بہت اچھے آدمی ہو اس سے بچ کر رہنا اور ہا ں بیٹا ! تمہا را نا م کیا ہے ؟ حضو ر (ص)فر ما تے ہیں محمد (ص)، اور وہ ایما ن لے آتی ہے ۔ دوسرا واقعہ سنئے کہ ایک بو ڑھی جب حضور(ص) وہاں سے گز ر تے ہیں تو انتظا ر میں رہتی ہے اور ان(ص) کے اوپر روزانہ کو ڑا پھینکتی ، ایک دن وہ نظر نہیں آتی ہے تو حضورﷺ اس کے دروازے پردستک فر ما تے ہیں ۔ وہ پو چھتی ہے کو ن ہو کیسے آئے ہو ؟ تو حضو ر (ص)فر ما تے ہیں میں محمد (ص)ہوں آج تم نظر نہیں آئیں تو تمہاری خیریت پو چھنے آیا ہوں۔ اس نے بتا یا کہ میں بیما ر ہوں۔ اس وجہ سے نہ آسکی اور وہ شرمندہ ہوکرایما ن لے آتی ہے ۔ حضور(ص) کے قتل کے منصو بے بن رہے ہیں مگر لو گ اپنی اما نتیں اب بھی ان ہی کے پا س رکھتے ہیں۔حضو ر(ص) انتقام میں انہیں غصب نہیں فر ما تے ہیں۔ حتیٰ کہ جس را ت ہجرت فر ما تے ہیں ان اما نتو ں کو سپرد کر نے کے لیئے اپنے سب سے زیا دہ چہیتے چچا زاد علی ؓ کو خطر ے میں ڈا لد یتے ہیں ۔جب کہ اِس کی تا ریخ میں ایک اور مثا ل بھی مو جو د تھی کہ بنی اسرا ئیل قبطیو ں کی اما نتیں سا تھ لے آئے تھے ؟اس کے بعد جب ایک عرصہ کی جلا وطنی کے بعد بطو ر فا تح مکہ میں دا خل ہو تے ہیں ۔دس ہزا ر جا نثا ر فو ج ہم رکا ب ہے ۔ اب وہ لو گ لر ز رہے ہیں جنہو ں نے حضو ر(ص) اور مسلما نو ںؓ کی زند گی اجیرن کیئے رکھی ،حج اور عمرہ جس سے کسی کو بھی رو کنے کا رواج نہ تھا، وہ بھی نہیں کر نے دیا ۔ حضرت بلا لؓ کو ریت پر تپا نے وا لے غلا مو ں کو اس خطا پر مار نے وا لے کہ انہو ں نے اسلام قبو ل کیوں کیا۔ حضو ر(ص) پر کئی سا ل تک دا نہ پا نی بند کر نے وا لے سب خا ئف ہیں اور پر یشا ن ہیں کہ دیکھیں اب کیا ہو تا ہے؟ کہ ایک منا دی کرنے والا اعلان کر تا ہے کہ جو حرم میں ہو وہ محفو ظ ہے، جو اپنے گھر میں بیٹھا رہے وہ محفو ظ ہے۔ جو حضور(ص) پر اور حضرت بلا لؓ پر ظلم ڈھا نے والے کے گھر میں پنا ہ لے وہ بھی محفو ظ ہے ۔ حضو ر (ص) حرم میں دا خل ہو کر فر ما تے ہیں کہ آج کے دن کو ئی انتقام نہیں ہے ،میں (ص) سب کو معا ف کر تا ہو ں ۔لو گ جو ق در جو ق بیعت کے لیئے حا ضر ہو رہے ہیں ان میں ابو سفیا نؓ کی بیو ی ہندہ بھی ہے ۔ جس نے حضو ر(ص)کے چچا حضرت حمزہ ؓ کاکلیجہ نکا ل کر چبا یا تھا ۔ وہ جا تے ہو ئے ڈرتی ہے منہ چھپا تی ہے مگر معا فی لے کر نکلتی ہے ۔ عکرمہ بن ابو جہل کی بیوؓ ی آکر کہتی ہیں جو خود مسلمانؓ ہیں اور مدینہ ہجرت کر چکی ہیں۔ کہ عکر مہ اور صفوان بن امیہ بھا گ گئے ہیں اگر آپ انہیں معا ف کر دیں۔ تو میں انہیں لے آؤ ں حضو ر(ص)فر ما تے ہیں لے آؤ معا فی ہے ۔ یہ دو نو ں وہ تھے جو کہ اس دن بھی جنگ سے بعض نہ آئے اور حضرت خا لدؓ بن ولید سے بھڑ گئے، اور جب شکست کھا ئی تو فرار ہو گئے ۔ عکر مہ بھا گ جا تا ہے مگر صفوان کو جہا ز نہیں ملتا ہے لہذا وہ انؓ کو مل جا تا ہے اس کو معا فی کا یقین نہیں آتا مگر ان کے یقین دلا نے پر چلد یتا ہے جب در با رِ رسا لت میں پہو نچتا ہے تو کہتا ہے کہ میں ایما ن دو ما ہ بعد لا ؤنگا اگر میرا دل چا ہا تو حضو ر(ص) فر ما تے ہیں تمہیں دو ما ہ نہیں چا ر ما ہ کی مہلت ہے ۔وہؓ ایک ما ہ کے بعد ہی غزوہ حنین میں مدد کر تے ہیں اورایما ن لے آتے ہیں ۔ جبکہ عکر مہؓ، مدینہ میں آکر مشرف بہ اسلام ہو تے ہیں ۔ حبشی جس نے حضر ت حمزہؓ کودھو کے سے اپنے حر بہ مارکر شہید کیا تھا چھپتا پھر رہا ہے کیو نکہ اب پو را عرب اسلام میں دا خل ہو چکا ہے اس وقت کو ئی اسے مشو رہ دیتا ہے کہ کمبخت رحمت سے نا امید کیو ں ہے ؟ وہ(ص) تو رحمت ِ عا لم ہیں ۔جا اور جا کر ان (ص)کے سا منے کلمہ پڑھے لے وہ جا تا ہے اس حا لت میں کہ کلمہ اس کی زبا ن پر ہے حضو ر(ص) اس کو بھی معا ف فرمادیتے ہیں ۔اس ہدا یت کے سا تھ کہ آئندہ میرے (ص) سا منے نہیں آ نا کہ میں بھی انسا ن ہو ں اور میرے منہ سے مبا دا کو ئی غلط با ت نکل جا ئے ۔ حضور (ص) کا اپنا آبائی مکان ابو لہب کی اولاد کے قبضہ میں ہے، حضرت خدیجہؓ والا مکان ابو سفیانؓ کے قبضے میں ہے، اس کا قبضہ واپس لینا چاہیئے تھا، مگر وہ(ص) انہیں کو بخش دیتے ہیں اور جب صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ حضور(ص) ہمارے مکان تودلوا دیجئے جو انہوں نے ہجرت کرنے کے جرم میں چھینے تھے۔ مگر حضور (ص) فرما تے ہیں کہ کیا تم جنت میں اس کے بدلے میں اس سے بہتر مکان نہیں چاہتے ؟وہ بھی سب اپنے دعوے سے دستبردار ہو جاتے ہیں ؟کیا ایسا انسان اور وہ بھی فاتح، دنیا نے کو ئی اوردیکھا ؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اسی لیئے حق تعا لیٰ نے فر ما یا۔ وما ارسلٰنک الارحمت اللعا لمین ( اے محمد) ً ہم نے آپ کو تمام جہا نو ں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہےً

شائع کردہ از shaksiat | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں

ولادت حضرت امام حسن علیہ السلام ۔۔۔ شمس جیلانی

کفار ِ مکہ اس بات کے منتظر تھے کہ حضور(ص) کی کو ئی اولاد نرینہ تو موجود ہے نہیں لہذا ان کی آنکھ بند ہو تے ہی یہ دین بھی ختم ہو جا ئے گا اور نام بھی ! یہ تصور ان میں اس لیئے پیدا ہوا تھا کہ مکہ کے قیام کے دوران حضور (ص) کے اکلو تے فر زند انتقال فر ما ئے گئے تھے ۔اسی کے جواب میں سورہ الکوثر نازل فر ماکر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کی نفی فر مادی جس میں پیغام یہ تھا کہ “ ( اے میرے محبوب غم نہ کیجئے ) آپ نہیں بلکہ آپ کوابتر کہنے والے ابتر ہوں نگے آپ صرف میری راہ میں قربانی دیتے رہیں اور نماز پڑھتے رہیں میں آپ کو ( حوض) کو ثر عطا کرونگا ۔ زمانے نے دیکھا کہ اس کے با وجود کہ بنو امیہ اور بنو عباس دونوں نے آل ِ فاطمہ  کو شہید کر نا اپنا فر ض ِ منصبی سمجھا ،اور اللہ کی قدر ت کو شکست دینا چا ہی !مگر جس طرح اکیلے آدم علیہ السلام سے تقریبا ًسات ارب انسان اس وقت دنیا ں میں موجود ہیں اسی طرح صرف ایک جوڑے حضرت علی اور اور حضرت فاطمہ کی اولاد اتنی بڑھی کہ جس کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق کروڑوں میں ہو گی ۔ جبکہ ابتری کا طعنہ دینے والوں کو اللہ نے با دشاہت بخشی اور وہ اتنے قتل بھی نہیں ہوئے، اس کے با وجود وہ آج ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔اس لیئے کہ ان کی اولاد اگر کہیں تھی بھی تو وہ ابن ِ ابو لہب ، ابن ِ ابو سفیان ابن ِ معاویہ اور ابن ِ یزید کہلوانے سے شر ماتی تھی۔ لہذا اب اس کا کہیں وجود نہیں ملتا اور قرآن کی پیشن گوئی مطابق وہ ابتر ہو گئے۔ یہ تو ہونا ہی تھا اس لیئے کہ اللہ کے کہے کو کون بدل سکتا ہے؟
جبکہ حضور(ص) کے لیے قانون ِ نسب بدل کر اللہ نے بجا ئے بیٹے کے بیٹی سے جاری فر مادیا اور ان پر دین کی اشا عت کو بھی فرض فر مادیا جو کہ تا حال جاری ہے اور انشا اللہ اس وقت جاری رہے گی۔جب تک کہ یہ سب حدیث کے مطابق اسی حوض کو ثر پر جاکر دوبارہ حضور (ص) کی خدمت میں حا ضر نہ ہو جا ئیں ۔اس کی اصل وہ حدیث ہے جس میں کہ خم ِ غدیرکے موقعہ پر حضور (ص) نے فر مایا کہ “ میں اپنے پیچھے قرآن اور اپنی عترت چھوڑے جارہا ہوں انہیں مضبوطی سے پکڑے رہنا؟ یہ نگراں رہیں گے تا وقتیکہ یہ مجھ سے حوض کو ثر پر آکر نہ ملیں؟ اور آیت مودہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ  “اے میرے حبیب ان سے کہدو کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ توا للہ کے پاس ہے لیکن تم سے اپنے اقربا کے لیئے محبت کا بر تا ؤ چاہتا ہوں “ یہ تھا وہ پسِ منظر جن حالات میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت، حضور اور مسلمانوں کے لیئے جواہمیت رکھتی تھی اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔
پندرہ رمضان المبارک سن تین ہجری کی شام تھی حضور (ص) نماز سے فارغ ہو کر مسجد میں تشریف فرما لوگوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے ، گوکہ گلستان ِ نبوت(ص) میں مدتوں کی ویرانی کے بعد پہلا پھول کے کھلنے کی اطلاع چاروں طرف گشت کر رہی تھی۔ مگر آج کی طرح اس وقت یہ سہولت حا صل نہ تھی کہ وقت سے پہلے یہ معلوم کر لیتے کہ نوزائیدہ لڑکی ہے یا لڑکا ۔ جو اس پر مطلع کر دیئے گئے تھے وہ بھی اس لیئے خاموش تھے کہ اللہ اپنے کسی راز کو وقت سے پہلے کبھی ظاہر فرمانا پسند نہیں فرماتا۔ اتنے میں جبر ئیل علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور حضور (ص) کو ایک کپڑا پیش کیا جس پر “ حسن “ لکھا ہوا تھا ۔ حضور (ص) نے پو چھا کہ یہ کس کا نام ہے تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ کے بطن ِپاک سے تولد ہو نے والے آپ کے نواسے کا۔ وہ جو دلوں کا حال جانتا ہے چونکہ اسے اپنے نبی (ص) پسند معلوم تھی کہ حضور (ص) اپنے نواسے کا نام شبر رکھنا چاہتے ہیں جو کہ ہارون علیہ اسلام کے بڑے صاحبزادے کا نام تھا ۔ لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کے ہم معنی نام جو اس نے روز ازل سے لکھ رہا تھا بھیج دیا تاکہ حضور (ص) کی یہ خواہش بھی پو ری ہو جا ئے۔ جبکہ اس نام کا کوئی شخص دنیا میں پہلے موجود نہیں تھا۔ جس میں ان کی اکملیت کا اشارہ بھی مضمر تھا۔ کیونکہ یہ ایسا لفظ ہے کہ جس چیز کے ساتھ لگا دیا جا ئے تو اس میں اکملیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلا ً حسن ِ انتظام حسن تقریر حسن ِ تدبیر وغیرہ ۔ وہ سراپا صبر اور برداشت تھے جس میں انکا کوئی ثانی نہ تھا جوکرایہ پر بھیجے گئے برا کہنے والوں کو بھی نوازتے تھے ۔
قصہ مختصر حجرہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بچے کے تولد ہو نے کی اطلا ع آگئی ۔ حضور (ص) اور صحابہ کرام کو بہت خوشی ہو ئی محفل بر خواست ہو گئی ۔ اور حضور  (ص)حجرہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف تشریف لے گئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بچہ اٹھا کر نانا (ص) کی گود میں دیدیا ۔ جو شکل و شباہت میں اپنی ماں کے ہم شکل تھا ۔ اور ماں کے بارے میں حضرت عا ئشہ (رض) سے یہ روایت بیان ہو ئی ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ شکل و صورت عادات اطوار میں حضور (ص) سے مشابہ کو ئی نہیں تھا۔ حضور (ص) نے ایک کان میں ا ذان اور دوسرے میں اقامت کہی اور اس کے بعد اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دیدی جس کو وہ اس طرح چو سنے لگے جیسے کہ اس میں سے شہد کی نہر بہہ رہی ہو ۔ اور نو زائیدہ کو وہ تمام خزانہ منتقل ہو گیا جو نا نا (ص) کے پاس تھا۔ جسے قرآن کی زبان میں علم ِ لدنی کہتے ہیں غالبا ً یہ ہی وجہ تھی کہ وہ قر آن ، حدیث اور فقہ میں ماہر ہونے کے با وجود کسی کے بظاہر شاگرد نہ تھے ۔ چونکہ نام عالم ِ بالا سے تجویز ہو کر آگیا تھا ،لہذا عقیقے کا انتطار غیر ضروری تھا۔ اس لیئے حضور (ص) نے نام کا اعلان بھی فر مادیا۔
اس پر پورے مدینہمنورہ میں عید کا سا سماں دکھا ئی دینے لگا ۔ مگر ان کی عید ہمارے جیسی نہ تھی نہ مسجد میں چرا غاں ہوا نہ گولے چھوٹے نہ کوئی محفل منعقد ہو ئی۔ لوگ جوق در جوق آتے گئے اور شکرانے کے نوافل ادا کرتے اور حضور (ص) کو مبارک باد یتے رہے۔ حضور (ص) بھی انتہا ئی خوش تھے کہ مدتوں کے بعد ان کے با غ میں بہار آئی تھی۔ پھر سات دن کے بعد حضرت حسن علیہ السلام کے سر کے مو ئے مبارک خود اتارے اس کے برابر چاندی تول کر صدقہ دی ۔ یہ بھی ہماری تعلیم کے لیئے تھا ورنہ اس گھرانے میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کو ئی حساب کتاب ہی نہ تھا جو پاس ہوتا وہ ہی نہیں بلکہ قرض لیکر بھی دیتے، یہ ہی حالت حضور (ص) کی اور بیٹی اور داماد کی بھی تھی ۔ اس کے بعد ایک دنبہ ذبح کیا اور گوشت اہل ِ مدینہ میں تقسیم کروادیا۔ حضرت امام کی کنیت ابو محمد تھی۔ اور لقب در بار خلافت سے سید عطا ہوا تھا۔ ان کا سن ِ مبارک صرف ساڑھے سات سال تھا جب حضور(ص) کا وصال ہو ا۔ حضور ان کو بے انتہا چا ہتے تھے۔ ایک دن حضور (ص) دونوں بھا ئیوں کو کاند ھے پر بٹھا ئے لیئے جا رہے تھے کہ ایک صحابی ملے اور انہوں نے فر ما یا کہ سواری بہت اچھی ہے تو حضور (ص) نے جواب دیا کہ سوار بھی بہت اچھے ہیں ۔ ایک اور حدیث میں حضور (ص) نے حضرت حسن کو جنت کا سردار بھی فر مایا ۔ اور یہ پشن گوئی بھی کی تھی کہ میرا یہ بیٹا مسلمانو ں کے دو گروہوں میں صلح کر ائے گا۔ ایک دوسری روایت میں جسکو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بیان فر ما یا کہ ایک دن میں دونوں صا حبزادوں کو لیکر حضور (ص)  کی خدمت میں پیش ہو ئی اور میں نے عرض کیا کہ یہ دونوں آپ(ص) کے بیٹے ہیں کچھ وراثت میں عطا فر ما ئیے ۔ حضور(ص) نے فر مایا کہ حسن (رض) کو میری سیادت او رفتح با لرعب اور حسین کو میری سخاوت اور شجا عت عطا ہوگی۔ اور وہ واقعہ بھی آپ لوگوں سنا ہو گا کہ ایک دن حضور  (ص)حالت ِ سجدہ میں تھے کہ حضرت حسن پہونچ کر ان(ص) کی پشت پر سوار ہو گئے اور اس وقت تک انہوں (ص) نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا جب تک کے وہ خود ہی پشت سے اتر نہیں گئے ۔اس کے علاوہ ان کی فضیلت میں بہت سی احادیث مو جود ہیں۔ جو کہ اس مختصر مضمون میں ساری بیان کر نا مشکل ہیں ۔ مختصر یہ کہ طریقت میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد ان کا  نمبر دوسرا ہے۔ اس سے ان کے مقام کا اندازہ ایک مبتدی کو بھی بخوبی ہو سکتا ہے کہ ان کامقام کیا تھا۔

شائع کردہ از shaksiat, Uncategorized | تبصرہ کریں

ولادت ِحضرت اما م حسین علیہ السلام ۔۔۔ شمس جیلانی

اب ہم اس ہستی کا ذکر کر نے جا رہے ہیں جو نادرالوجود ہے اور جس طرح نبوت حضور (ص) پر ختم ہے اسی طرح ان کو یہ شرف عطا ہوا کہ یہ سلسلہ پنج تن ِ پاک کے آخری رکن تھے ۔ ویسے تو پنج تنِ پاک کا ہر فر د اپنے کردار میں یکتا ہے اور ہمیں کسی کا کوئی تاریخ میں ثانی نہیں ملتا۔ مثلا ً حضور پاک (ص) کو لے لیجئے ۔ کوئی نبیوں (ع) میں آپ نے ایسا دیکھا جو بہ یک وقت اتنے کمالات اور معجزات کاحامل ہو؟ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کر دار دیکھ لیجئے۔کیا ان جیسا تا ریخ نے کو ئی اور ولی ، متقی اور شجیع پیداکیا؟ اسی طرح حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حضرتامام حسن کو دیکھ لیجئے کہ ان جیسا بھی تا ریخ میں کو ئی نہیں ملے گا، چونکہ ہم ان سب کا ان ہی صفحات میں ذکر کر چکے ہیں۔ لہذا دہرانا نہیں چاہتے ۔
اب ہم ان کا ذکر کر نے جارہے ہیں جن کا تاریخ میں اس میں کو ئی ثانی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے نا نا  (ص)کے ارشادات کے مطابق اہل ِ بیت کے سلسلہ میں اس آخری پیش گو ئی کو سچ کر دکھا یا کہ جس میں حضور (ص) نے فر مایا تھا کہ “ میرا یہ بیٹا اپنی جان دیکر دین کو بچا ئے گا “ اور ایک دوسری حدیث کے مطابق جو خم غدیر کے قیام کے موقعہ پر ارشادفر ما ئی تھی کہ “ میں تم پر اپنی عترت کو نگراں چھوڑے جا رہا ہوں اور یہ اس وقت تک تم پر نگراں رہیں گے، کہ مجھ سے حوض کو ثر پر بروز قیامت واپس نہ آملیں ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی خدا نے قر آن میں فرما یا کہ “ ان سے کہدو کہ میں تم سے کو ئی معاوضہ نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میری عترت کا خیال رکھو؟ لہذا دنیا نے دیکھا کہ یہ لوگ اور ان کی اولاد جبکہ ساری دنیا دولت کی ریل پیل کی وجہ سے عیش و عشرت میں مشغول ہو گئی ، پھر بھی یہ اسی فا قہ مستی میں رہی۔ لیکن جب سے ان کی اولاد بھی پٹری سے اتر ی اسی وقت سے وہ سسٹم بھی نا کا رہ ہو گیا جو حضور (ص) نے اولیا ءاللہ کی شکل میں بطور سیکنڈ ڈیفنس لا ئین چھوڑ ا تھا۔ اس پر پہلی یلغار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں ہو ئی اور وہ اس کے خلاف آخری وقت تک لڑتے رہے حتیٰ کہ شہید کر دیئے گئے۔ پھر جو احادیث میں حضرت حسن (ع) کا کردار تھا وہ انہوں نے ادا کیا کیونکہ ان کو حضور (ص) کا حلم ملا ہواتھا یعنی بلا کی برداشت ورنہ واقعہ کر بلا بہت پہلے بر پا ہو جا تا اور اس میں بیاسی نہیں بلکہ لاکھوں آدمی شہید ہو تے اور اغیار اس سے فا ئدہ اٹھاکر چین لیتے؟اور اب اس کے بعد یہ آخری پیش گوئی پو ری کر نے کے لیئے تشریف لا رہے تھے جن کا نام حضرت امام حسین (ع) ہے۔ جنہوں نے دنیا میں ایک اچھوتی مثال قائم کی کہ طا قت نہ ہو تے ہو ئے بھی حکومت ِ وقت سے ٹکرا گئے اور اپنے پو رے کنبہ کے مردوں کوسوائے ایک بیمارصا حبزادے کے شہید ہو تے ہو ئے دیکھا جس میں ایک شیر خوار بچہ بھی شا مل تھا، لیکن پا ئے ثبات میں لغزش نہیں آئی اور دنیا کے سامنے ایک عجیب فلسفہ شہا دت پیش کیا اور وہ راہ دکھا دی جس کے بعد جو بھی اس راہ پر چلے گا وہ ان کے اتبا ع کی بنا پر حسین ِ ثانی تو کہلا ئے گا۔ مگر حسین نہیں۔
حضرت امام حسین کی ولادت با سعادت کے بارے میں۔ المستدرک کے حوالے سے ایک مورخ نے یہ واقعہ تحریر کیا ہے کہ حضرت ام الفضل (رض) نے ایک خواب دیکھا، جس سے وہ پر یشان ہو گئیں ۔مدینہ میں عام قائدہ تھا کہ روزانہ حضور (ص)لوگوں سے خواب سنتے اور ان کی تعبیر بھی فر ماتے تھے، لہذا وہ (رض)خدمت ِ اقدس (ص) میں حا ضر ہو ئیں اور فر مایا کہ میں نے ایک بہت ہی بھیانک خواب دیکھا ہے۔ جب سے میں بہت پریشان ہوں ۔حضور (ص) نے فر مایا کہ بیان تو فر ما ئیے کہ کیا دیکھا ۔
تب انہوں (رض) نے فر مایا کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ (ص)کے جسم مبارک کو کاٹ کر اس میں سے ایک پارچہ علا حدہ کیا گیااور وہ کٹا ہواپارچہ میری جھولی میں ڈالدیا گیا۔ حضور(ص) نے فر مایا کہ آپ نے تو بہت اچھا خواب دیکھا ہے پھر اس کی تعبیر ارشاد فر مائی کہ “انشا اللہ میری بیٹی فاطمہ (س)کے یہاں بیٹا پیدا ہو گا اور اس کی پرورش آپ کریں گی۔یہ سن کر ام الفضل (رض) مطمعن ہو کر ، واپس تشریف لے گئیں ۔
مگر یہ ہی واقعہ ہمیں ایک دوسرے مورخ کے ہاں حضرت امام حسن (ع) کے با رے میں بھی ملا ،میں نے اس حدیث کو دیکھا اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ حضرت ام ِ الفضل (رض) زوجہ حضرت عباس (رض)سے مروی ہے کہ “ وہ حضور (رض) کے پاس تشریف لے گئیں اور فر مایا کہ میں نے رات ایک بھیانک خواب دیکھا ہے۔ حضور(ص) نے حکم دیا کہ بیان کرو!تب انہوں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ (ص) کے جسدِ مبارک سے گوشت کا ایک پارچہ قطع کر کے میری جھولی میں ڈالدیا گیا “حضور(ص)نے فرمایا کہ ً اچھا خواب ہے ، فاطمہ (س) کے ہاں بیٹاحسن(ع) تولد ہو گا اور آپ پرورش فر ما ئیں گی؟ مگر میرے خیال میں لفظ پرورش کو تر جیح دی جا ئے تویہ بات حضرت حسین (ع)کے بارے میں ہی زیادہ منا سب لگتی ہے کہ وہ چھوٹے تھے اور انہیں کی پرورش ام الفضل (رض)نے فرما ئی ہو گی ،جبکہ حضرت حسن (ع) ان سے بڑے تھے اور اسوقت الحمد للہ حضرت سیدہ(س) حیات اور صحت مند بھی تھیں ۔  جبکہ ایک تیسرے مورخ نے اس خواب کو حضرت ام َ ایمن (رض) سے منسوب کیا ہے جنہیں حضور (ص) کی پرورش کا شرف بھی حاصل ہے۔ اور “پرورش“ کالفظ ان پر زیادہ دلالت کرتا ہے دوسرے یہکہ ام َ فضل نے ہجرت بھی فتح مکہ کے بعد فرمائی تھی اور جبکہ فتح مکہ 8ہجری میں ہوئی اس طرح 4  ہجری میں ان کی موجودگی حضرت امام  حسین (ع) کو پرورش کرنا بعید از قیاس ہے۔ واللہ عالم ۔
بہر حال وہ وقت آن پہونچا کہ 3 شعبان 4 ہجری کو دوسرے شہزادے حضرت امام حسین (ع)اس جہان ِ فانی میں، لا فانی اور لا ثانی ہونے کے لیئے تشریف لا ئے اور جس طرح پہلے صاحبزادے کی آمد پر خوشیاں منا ئی گئیں تھیں اسی طرح دوسرے صاحبزادے کی آمد پر بھی خو شیاں منا ئی گئیں ۔
حضور (ص)کو ان کی آمد کی جب اطلا ع دی گئی تو انہوں(ص) نے حسب سابق ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور ایک گوش ِ مبارک میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہی اور پھر اپنی زبانِ مبا رک ان کے دہن مبارک میں دیدی جس کو وہ چوسنے لگے۔ اس کے سات دن کے بعد عقیقہ ہوا اور نام حسین رکھا گیا۔ جبکہ ان کا نام بھی کہتے ہیں کہ حضور (ص) نے حضرت ہارون کے دوسرے صاحبزادے کے نام پر شبیر رکھا تھا، لیکن ایک روایت کے مطابق حضرت جبر ئیل(ع) حضرت حسن(ع) کی پیدا ئش پرحضرت حسن(ع) اور حسین(ع) دونوں(ع) کے نام ایک کپڑے پر لکھے ہو ئے  تھے لیکر تشریف لا ئے تھے ۔ اگر اس کو مان لیا جا ئے تو ان کی پیدا ئش پر ہی ان کا نام حضور(ع) نے رکھدیا ہو گا ۔اس صورت میں نام رکھنے کے لیئے عقیقہ تک انتظار کی ضرورت نہیں تھی البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اعلانِ عام رواج کے مطابق عقیقہ پر فر مایا ہو جبکہ حضور(ع) نے دونوں کی پیدا ئش سے پہلے سوچا ہو کہ میں یہ دونوں نام اپنے دونوں نواسوں کے رکھو نگا ۔ واللہ عالم
ان کی پیدا ئش کے بعدحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاکے ذمہ ایک کے بجا ئے دو بچوں کی پرورش ہوگئی تھی۔ لیکن ان کی عبادت اور ریاضت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اکثر اوقات لوگوں نے دیکھا اور سنا کہ دونوں صا حبزادے گود میں ہیں اور وہ چکی پیس رہیں اور اللہ سبحا نہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی جاری ہے۔ یہ دنیا کے لیئے مثال ہے کہ “فقرو بنون “کے ساتھ حمدو ثنا کیسے کی جاتی ہے؟ جبکہ قر آن میں الاد (بنون ) کو فتنہ کہا گیا ہے۔ لیکن یہ ہی الاد اگر صحیح طریقہ سے پروان چڑھائی جائے تو رحمت بن جاتی ہے ، جیسے کہ حسن (ع) اور حسین (ع) اور ان کی ہمشرہ حضرت زینب(س) تھیں۔ اس میں سبق ہے تمام مومنیں کے لیئے جو ان کی پیروی کرنا چا ہیں۔ جبکہ ہم نے بعض علماء کو یہ کہتے بھی سنا کہ دن منانے کے لیے ہوتے ہیں عمل کرنے کے لیئے نہیں؟

شائع کردہ از article | ٹیگ شدہ , | تبصرہ کریں